تو کیا ادھو ٹھاکرے بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے؟  سنڈے اسٹوری: شکیل رشید 
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) 
   ’ ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرلو !‘ 
یہ مہارشٹرا کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کا بی جے پی کو چیلنج ہے ۔ اور یہ چیلنج ضروری بھی تھا ۔ ویسے اس چیلنج کا کوئی اثر ہوگا بھی ، کہا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ چیلنج اس بی جے پی کو دیا جا رہا ہے جس کے ضمیر اور خمیر میں ، اخلاق اور اصول و ضوابط شامل نہیں ہیں ۔ جس نے بھی ملک کی سیاست پر گہری نظر رکھی ہو گی اُسے خوب اندازہ ہوگا کہ بی جے پی بس ہڑپنا جانتی ہے ، ہر اُس جماعت کو ، ہر اُس سیاست داں اور ہر اُس شخص کو ، جس نے کسی نہ کسی موقع پر اُسے سہارا دیا ، یا اُس کی مدد کی ہو ۔ گوا ، ایم پی اور منی پور میں اس کی مثالیں موجود ہیں ، راجستھان ،یں بھی کوشش کی گئی تھی جو ناکام رہی ہے ، تازہ مثال بہار کی ہے ۔ بہار میں وکاس شیل انسان پارٹی( وی آئی پی )کے چار ایم ایل اے تھے ، ایک کا دیہانت ہو چکا ہے ، تین باقی بچے تھے ، گذشتہ دنوں تینوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ اب وی آئی پی کے مکھیا ایم ایل سی ، مکیش سہنی اکیلے رہ گئے ہیں ، وہ وزیر تو ہیں لیکن اب آواز اٹھنے لگی ہے کہ کیوں نہ انہیں وزیر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے ۔ کہا جاتا ہے کہ وی آئی پی کو روندنے کے بعد بی جے پی کا اگلا نشانہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار ہوں گے۔
بہار اسمبلی میں اب متحدہ جنتا دل کی ۷۵ سیٹوں کے مقابلے بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد بڑھ کر ۷۷ ہو گئی ہے ، یعنی دو سیٹیں زیادہ ، اس طرح وہ بہار اسمبلی میں اب سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے ۔ ممکن ہے کہ کسی روز وہ دعویٰ کر دے کہ اب وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نہیں رہیں گے ، کوئی ان کی پارٹی سے وزیرِ اعلیٰ ہو گا ۔ حالانکہ ابھی نتیش کمار کو ہٹا پانا بی جے پی کے لیے آسان نہیں ہوگا ، لیکن اگر وی آئی پی کے اراکینِ اسمبلی کی طرح جنتا دل متحدہ کے اراکینِ اسمبلی کی کچھ تعداد ٹوٹ کر بی جے پی میں چلی گئی تو نتیش کمار کیا کریں گے ؟ یہ ممکن ہے ۔ بی جے پی یہی کرتی چلی آئی ہے ۔ مذکورہ پس منظر میں مہاراشٹرا میں بڑھنے والی سیاسی گرمی کو سمجھنا قدرے آسان ہو گا ۔ آنے والوں دنوں میں سیاسی گرمی مزید بڑھے گی ، کیونکہ جلد ہی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہونا ہیں ۔ لیکن یہ سیاسی گرمی کوئی نئی نہیں ہے ، بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اٹھا پٹخ تو اُسی روز شروع ہو گئی تھی جب ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کو چھوڑ کر این سی پی اور کانگریس سے ہاتھ ملایا تھا ، اور سابق وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے ، پھر سے مہاراشٹرا کا وزیرِ اعلیٰ بننے کے خواب کوچکنا چور کر دیا تھا ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ بی جے پی کی ، ملک کی مزید ایک ریاست میں ، حکمرانی کرنے کی خواہش پر پانی پھیر دیا تھا ۔ شیوسینا اور بی جے پی کی لڑائی کی اصل بنیاد یہی ہے ۔ اب تک بی جے پی ریاست کی حکمرانی کو کھو دینے کے صدمے سے باہر نہیں نکل پائی ہے ۔ ادھو ٹھاکرے کی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ہی سے ، اسے گرانے کی ، اس کے اراکینِ اسمبلی کو توڑنے اور مہا وکاس اگھاڑی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں ، جو آج بھی جاری ہیں ، اسے ’ مشن کمل ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ بی جے پی نے کوئی کثر ادھو سرکار کو گرانے کی نہیں چھوڑی ہے ۔ 
ماضیٔ قریب میں ادھو ٹھاکرے نے بالکل درست کہا تھا کہ یہ شیوسینا ہی تھی جو مہاراشٹر بالخصوص ممبئی میں بی جے پی کے عروج کا سبب بنی تھی۔ 

ممبئی میں شیوسینا - بی جے پی گٹھ بندھن کی تاریخ سے واقف لوگ خوب جانتے ہیں کہ اگر شیوسینا نے بی جے پی کا ہاتھ نہ تھاما ہوتا تو ، اس ریاست میں بی جے پی آج جس قدر مضبوط اور توانا ہے ، اتنی قطعی نہیں ہوتی ۔ جس طرح مرکز میں این ڈی اے میں شامل سیاسی پارٹیوں نے ، جن میں اکثر سیکولر تھیں ، بی جے پی کو سہارا دے کر اٹل بہاری واجپائی کی حکومت بنوائی اور مرکزی سیاست میں بی جے پی کو ’مرکز نظر‘ بنوانے میں اہم کردار ادا کیا ، بالکل اسی طرح شیوسینا کا کردار ممبئی میں تھا ۔ ویسے ایک سچ یہ بھی ہے کہ مرکز اور ریاست مہاراشٹر میں بی جے پی کے ساتھ ’ گٹھ بندھن ‘ خود بالترتیب این ڈی اے کی سیاسی سیکولر پارٹیوں اور شیوسینا کے لیے ، اپنے اپنے ’سیاسی مفادات‘ کو پروان چڑھانے کا ایک ذریعہ بھی تھا ۔ دونوں ہی طرف اقتدار کی بھوک تھی ۔ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ بی جے پی اس قدر مضبوط اور توانا ہوگئی ہے کہ اس نے اپنی حلیف سیاسی پارٹیوں کو ٹھینگا دکھانا شروع کردیا ہے ۔ مہاراشٹر ا میں جب فڈنویس کی سرکار تھی ، تب اس نے شیوسینا کو ’عضو معطل‘ بنارکھا تھا ۔ اہم ترین محکموں اور وزارتوں سے اس کو محروم رکھاگیا تھا ۔ سرکاری منصوبوں میں شیوسینا کے کردار کو تقریباً صفر کردیاگیا تھا ۔ ادھو ٹھاکرے اور ان کے دست راست رکن راجیہ سبھا سنجے راوت نے اسی دور سے ہی بی جے پی پرتنقید شروع کر دی تھی ، مہاراشٹر کی اس وقت کی فڈنویس سرکار پر حملے کیے تھے ۔ فڈنویس سرکار نے بھی گاہے گاہے شیوسینا پر حملے بولے تھے ۔ اشیش شیلار اور کرت سومیّا کا کھل کر شیوسینا پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا ۔ اور بی ایم سی الیکشن سے قبل یہ لگنے لگا تھا کہ شاید دونوں پارٹیاں علاحدہ ہوجائیں ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ شیوسینا بی ایم سی کے الیکشن میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی ، بعد میں اسے بی جے پی نے مئیر کے انتخاب کے لیے سپورٹ کیا تھا ، لیکن دونوں کے درمیان ایک دراڑ پڑ گئی تھی ۔ شاید اسی وقت شیوسینا کو یہ احساس ہو اہو کہ ، بی جے پی سے دامن چھڑا کر ، مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بااثر اور مضبوط سیاسی پارٹی کے طور پر ، خود کو منوانا اب ضروری ہے ۔ اور شاید اسی لیے ، اسمبلی الیکشن کے بعد ، اس نے بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا اور ادھو ٹھاکرے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ یہ اچھا ہی ہوا ، ورنہ شاید اب تک شیوسینا بی جے پی میں ضم ہوچکی ہوتی ، یا اگر ضم نہیں بھی ہوئی ہوتی تو بھی اس کی حیثیت آج کے سیاسی منظرنامے میں ایک معمولی سپاہی کی ہوتی ، ایک ایسے سپاہی کی جو بادشاہ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینے کا کام کرتا ہے ۔ مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت کے قیام کے بعد ، شیوسینا کو خود کو منوانے کا او ر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کا موقع ملا تھا ، موقع ابھی بھی ہاتھ سے گیا نہیں ہے ، یہ اور بات ہے کہ بی جے پی موقع کو چھیننے کے لیے ہر ممکن کھیل کھیل رہی ہے ۔ مہاراشٹر میں ایک ایسی سیاسی پارٹی کے طو رپر ، جس نے عوام کی فکر کی ہو ، شیوسیناخود کو منوانے میں قدرے کامیاب ہے ، اس کے کاموں سے لگتا ہے کہ اسے مہاراشٹر اور مہاراشٹر میں رہنے والوں کی ترقی کی فکر ہے ۔ اس نے ’ ہندوتوا ‘ کو تو نہیں چھوڑا ہے لیکن بی جے پی کی ’ فرقہ پرستی‘ کی سیاست سےبڑی حد تک خود کو کنارہ کش کیا ہے اور آر ایس ایس پر سخت نکتہ چینیاں کی ہیں ۔ پہلےشیوسینا ریاست کے مسائل سے آنکھیں موند کر بی جے پی کی ’ ہندو توا ‘ کی راہ پر چل رہی تھی ، مگر اس میں اب ایک تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے ۔ بی جے پی یہی نہیں چاہتی ۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ شیوسینا کٹر ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ، اس لیے اویسی کی پارٹی سے گٹھ بندھن کی پیشکش بھی ہوئی ، تاکہ ہندوؤں کے لیے بھی اور این سی پی و کانگریس اور سیکولر ذہن رکھنے والوں کے لیے بھی ، اُس پر بھروسہ کرنا یا اس کی حلیف بننا ، ممکن نہ رہے ۔ ایسا ہوا تو شیوسینا کو بی جے پی کا سہارا لینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے ۔ اب تک تو ایسا ہوا نہیں ہے ، لیکن ایسا ہو جائے اس کے لیے ، بی جے پی نے ان ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کیا ہے ، جو کسی کے بھی قدموں کو ڈگمگا سکتے ہیں ۔ ای ڈی اور انکم ٹیکس کا استعمال ، اور شیوسینا و حلیف سیاسی جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی کو ڈرانے اور ان کے گھروں اور کاروباری ٹھکانوں پر چھاپے مروانے کا کام ۔ خود ادھو ٹھاکرے کوگھیرنے کا کام ۔ کبھی ان کے بیٹے ، ریاست کے ایک وزیر ادتیہ ٹھاکرے پر ، اپنے ایم پی نارائن رانے کے ذریعے گھناؤنے الزامات لگوانے کا کام اور کبھی ادھو ٹھاکرے کے رشتے دار کی املاک کی ضبطی کا کام ۔ 
ادھو ٹھاکرے کےمذکورہ چیلنج کی ایک بڑی وجہ ، ان کے سالے یعنی ان کی اہلیہ رشمی ٹھاکرے کے بھائی شری دھر مادھو پاٹنکر کی املاک کی ، ای ڈی کے ذریعے ضبطی ہے ۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ کا الزام عائد کر کے چھ کروڑ روپیے سے زیادہ کی ان کی جائیداد ضبط کر لی ہے ۔ اس ضبطی سے قبل محکمۂ انکم تیکس نے ادتیہ ٹھاکرے اور شیوسینا کے ہی ایک لیڈر انیل پرب کے کئی جاننے والوں کے یہاں چھاپےمارے تھے ۔ راہل کنال ، سدانند کدم اور بجرنگ کرماتے کے ٹھکانوں پر چھاپوں کے بعد ای ڈی نے پاٹنکر کی گیارہ جائیدادوں کی ضبطی کا اعلان کیا ۔ یہ معاملہ اس لیے بھی ایک دلچسپ رُخ اختیار کر گیا کہ جن جائداووں کو ضبط کیا گیا ہے ،ان کا کنٹرول ’ شری سائی بابا گرہ نرمتی پرائیوٹ لمیٹیڈ ‘ کے تحت ہے ، اور اسے ادھو ٹھاکرے کی اہلیہ رشمی ٹھاکرے کی ملکیت کہا جا رہا ہے ۔ گویا کہ یہ چھاپہ ایک طرح سے ادھو ٹھاکرے کی اپنی ذات پر اور مہاراشٹرا کے اُس وزیر اعلیٰ پر ہے جس نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔ اس پس منظر میں چھاپوں کی اس کارروائی کو ’ سیاسی انتقام ‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ اور صرف یہی چھاپے نہیں ہیں ، شیوسینا کے ایم پی سنجئے راؤت نے الزام لگایا تھا کہ کچھ لوگ ان تک یہ پیغام لے کر پہنچے تھے کہ وہ مہاراشٹرا کی مہا وکاس اگھاڑی سرکار کو گرانے میں مدد کریں ، اور جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں یہ دھمکی دی گئی کہ ۱۷ سا ل قبل علی باغ میں انہوں نے جو زمین خریدی تھی اس کی ای ڈی سے انکوائری کروائی جائے گی ۔ اتنا ہی نہیں سنجئے راؤت کی بیوی ورشا راؤت کو ای ڈی نے نوٹس بھی دیا تھا ، یہ معاملہ ابھی بند نہیں ہوا ہے ۔ اور پھر شیوسینا کے کئی ایم ایل اے اور کارپوریٹر ہیں جو ای ڈی اور انکم ٹیکس کے راڈار پر ہیں ۔ ابھی تین روز قبل ای ڈی نے شیوسینا کے ایک رکن اسمبلی پرتاپ سُرنائک کے گیارہ کروڑ سے زائد روپیے کی املاک ضبط کی ہے ۔ ای ڈی کی یہ کارروائی شیوسینا کو اس لیے مشکل میں ڈال سکتی ہے کہ پرتاپ سُرنائک نے ادھوٹھاکرے کو کچھ پہلے یہ تحریری مشورہ دیا تھا کہ بی جے پی سے مفاہمت کر لی جائے ۔ ایک کارپوریٹر یشونت جادھو کو گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ 
ای ڈی اور محکمۂ انکم ٹیکس کی کارروائیوں کے مقاصد خوب واضح ہیں ، شیوسینا کو مفاہمت کے لیے مجبور کرنا ، اراکین اسمبلی کو خوف زدہ کرنا اور شیوسینا میں بغاوت کی لہر کو ہوا دینا ۔ بنیادی مقصد بی جے پی کی حکومت کا قیام ہے ۔ بی جے پی کو خوب اندازہ ہے کہ اگر اس نے آئندہ اسمبلی الیکشن بغیر شیوسینا کے سپورٹ کے لڑا تو اس کے لیے راستہ بڑا ہی کٹھن ہوگا ، اس کے خواب پورے نہیں ہو سکیں گے ۔ ایک بڑا خواب ملک کو ’ ہندو راشٹرا ‘ میں تبدیل کرنا ہے ۔ ویسے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ ساری کارروائیاں مہا وکاس اگھاڑی کو مضبوط کرنے کا ایک بڑا سبب بن گئی ہیں ۔ چونکہ شیوسینا ہی نہیں این سی پی اور کانگریس کے اراکین اسمبلی بھی نشانے پر ہیں اس لیے یہ سب مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں ۔ این سی پی قائد نواب ملک کی ای ڈی کے ذریعے ’ منی لانڈرنگ ‘ کے الزام میں گرفتاری ، سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کی ’ ہفتہ وصولی ‘ کے الزام میں گرفتاری ، ڈپٹی وزیراعلیٰ اجیت پوار پر چھاپے ، این سی پی قائد شردپوار کو ای ڈی کے نام سے ڈرانے کی کوشش ۔ پھر ایک لڑائی ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے نام پر بھی لڑی جارہی ہے ۔ اس لڑائی میں ایک خاتون آئی پی ایس افسر رشمی شکلا بھی شامل ہیں اور سچن وازے بھی ، جو خواجہ یونس فیک مڈبھیڑ کا ملزم ہے ۔ اس لڑائی میں کئی اور اعلیٰ پولیس افسروں کے نام شامل ہیں ۔ اور سرکاری افسروں کے بھی ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یو پی جیتنے کے بعد بی جے پی اعلیٰ کمان کی ساری توجہ بہار پر ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ساری توجہ مہاراشٹرا پر ہے ۔ کسی طرح ملک کے سب سے مالدار ممبئی میونسپل کارپوریشن کو جیتنا اور ریاست پر قبضہ جمانا ہے ۔ اس کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا مکمل آشیرواد حاصل ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ ادھو گھبرا کر گھٹنے ٹیک دیتے ہیں یا جیسا کہ چیلنج دیا ہے کہ ’ ’ ہمت ہے تو مجھے گرفتار کر لو ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی کے سامنے ڈٹے رہتے ہیں ۔