مسکراہٹ کے ساتھ کوئی بات کہی جائے تو جرم نہیں:عدالت، دہلی ہائی کورٹ کاانوراگ ٹھاکر پرویش ورما ہیٹ اسپیچ معاملے میں سی پی آئی لیڈر کی عرضی پر فیصلہ محفوظ، کیا’دیش کے غداروں کو گولی مارو ۔۔۔کو‘ ہیٹ اسپیچ نہیں؟
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہاکہ اگر آپ مسکراتے ہوئے کچھ کہہ رہے ہیں تو کوئی جرم نہیں ہے۔ حالانکہ اگر کچھ قابل اعتراض بات کہی جائے تو جرم ہوسکتا ہے۔ 
جسٹس چندردھاری سنگھ کی سنگل جج کی بینچ نے اپنے تبصرے میں کہاکہ اکثر الیکشن کے دوران دئے گئے سیاسی تقاریر عام دنوں کے بیانوں سے تھوڑی مختلف ہوتی ہیں، بغیر کسی منشاء کے بھی کچھ چیزیں ماحول سازی کےلیے کہی جاتی ہیں، اس لیے ان پر مقدمہ درج کرنے سے پہلے چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ مرکزی وزیر انو راگ ٹھاکر اور بی جے پی ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما سے منسلک ہے، سی پی آئی لیڈر ورندا کرات نے دونوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کو لے کر عرضی دائر کی تھی، اس میں نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کیاگیا تھا، نچلی عدالت نے مجرمانہ شکایت کو خارج کردیا تھا، بینچ نے عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ ۲۰۲۰ میں دہلی اسمبلی الیکشن کے پرچار کے دوران انو راگ ٹھاکر نے اپنی تقریر میں’ دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو‘ کے نعرے لگائے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ۲۹ جنوری ۲۰۲۰ کو تقریر کےلیے ٹھاکر کو وجہ بتائو نوٹس جاری کی تھی کرات نے نچلی عدالت میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے خارج کردیاگیا تھا اب کرات نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جہاں ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ کیا ہے۔ 
سماعت کے دوران کرات کے وکیل ادیت پجاری اور تارا نرولا نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ تقریر نے دہلی کے مختلف حصوں میں ہورہے سی اے اے مظاہرے کے دوران تشدد کو بھڑکایاگیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ کہ وزیر کے ذریعہ ’یہ لوگ‘ الفاظ کے استعمال سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ مظاہرین اور ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنارہے تھے۔ اس پر جج نے پوچھا کہ تقریر میں فرقہ وارانہ منشا کہا ہے کہ مظاہرین سبھی ایک کمیونٹی کے ہیں، بینچ نے پوچھا اگر اس تحریک کو اس دیک کے سبھی شہریوں کے ذریعہ حمایت کی جاتی تہے تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ایسا بیان دو لیڈروں کے ذریعہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کےلیے کہاگیا ہے، بینچ نے اپیل پر اپنا فیصلہ فی الحال محفوظ رکھ لیا ہے۔