فضیلت رمضان : مفتی عفان قاسمی بمبوی۔
اللہ جل شانہٗ کا بہت بڑا کرم اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں شعبان جیسے مقدس مہینے میں داخل کیا ہے کچھ دنوں کے بعد انشاءاللہ ماہ مبارک جسے ہم رمضان المبارک کہتے ہیں ہم تمام پر سایہ فگن ہو گا۔
رمضان کا یہ مہینہ رحمتوں برکتوں سعادتوں اور نعمتوں کا مہینہ ہے ، اس کی آمد پر ہر فرزند اسلام ہر صاحب ایمان فرحت و مسرت محسوس کرتا ہے اور روحانی امیدوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتا ہے اس میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، عورت مرد، مشرقی مغربی،شمالی جنوبی ،کالے گورے کی تمیز نہیں ہے تمیز ہے تو بس ایمان و عقیدے کی تمیز ہے جس نے ایمان کا حصہ پایا وہ رمضان کو خوش آمدید کہتا ہے رمضان سے برکت حاصل کرتا ہے دینی فوائد حاصل کرتا ہے اور روحانی بلندیوں کی جانب گامزن ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
   روزے کا مقصد نیکی اور پرہیز گاری بیان فرمایا گیا ہے اور اس ماہ میں قرآن کا نزول ہوا تاکہ نیکی اور پرہیزگاری پاکیزگی اور نیکوکاری کے لئے پوری پوری رہنمائی میسر آئے ، قرآن مکمل ضابطۂ اخلاق بھی ہے اور دستورِ حیات بھی ، رمضان کا سب سے بڑا عطیہ یہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں شارع اسلام محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم اللہ پر کتاب ہدایت اتاری گئ جس کی روشنی قیامت تک نوع انسانی کی رہنمائی کرتی رہے گی رمضان کی دوسری فضیلت روزہ ہے روزے تربیت نفس کے لئے بہترین ذریعہ ہے پاکیزہ زندگی کے لیے نفس کی تربیت لازمی ہے محض اچھے اصولوں کی تعلیم اس وقت تک غیر مؤثر ہے جب تک افراد کی تربیت اس کے مطابق نہ ہوں، قول کچھ ہو اور عمل کچھ ہو تو قول کا حسن بے معنی ہو جاتا ہے اصل اہمیت عمل کی ہے عمل ہی انسان کا زیور ہے اسی سے انسان کی پستی اور بلندی ظاہر ہوتی ہے ، قرآن عمل کی تعلیم دیتا ہے جس معاشرے میں افراد عمل سے عاری ہوں وہ معاشرہ قرآن کے معیار کے مطابق ناقص اور ناکام ہے رمضان عمل کی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اس مہینے میں وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ایک مقررہ مدت کے لئے حرام کر لیتا ہے انسان کھا سکتا ہے مگر نہیں کھاتا پی سکتا ہے مگر نہیں پیتا وہ اپنے نفس کی دوسری خواہشات بھی پوری کر سکتا ہے مگر وہ ان جائز خواہشات کی تکمیل بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ تعالی کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں قرآن سے روشن کتاب سے نوازا تو اب ہم پر لازم اور ضروری ہے کہ ہم اس مہینے میں قرآن سے زیادہ قریب ہوں اور اس کو خوب پڑے قرآن ہمارا رہنما ہے اسکی رہنمائی سے ہمیں پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے قرآن کی بتائی ہوئی تعلیمات پر ایک بار چل پڑیے بلندیہ آپ کے قدم چومنے پر مجبور ہو جائے گی۔
اس مہینے میں اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور وہ فضاؤں میں غباروں کی طرح اڑتی ہے اس کے بعد بھی اگر ہم اس کو پکڑنے سے محروم رہے یا پیاسے رہے تو یہ ہمارا قصور ہے ہم روزہ اور تلاوت کے ذریعے تزکیۂ نفس کریں تاکہ آئندہ گیارہ ماہ میں ہم خدا کی نافرمانیوں سے محفوظ رہ سکیں اگر ہم نے رحمت خداوندی اور مسلسل ایک ماہ تک جاری رہنے والے صفائی قلب کے اس کورس سے بھی ہم صحتیاب نہ ہو سکے تو ہمیں سابقہ امتوں کے احوال اور ان کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہئے انشاءاللہ پورے مہینے رحمت مغفرت اور آگ سے نجات کی صدائیں بلند ہوتی رہے گی ، اسلیے ہمیں پوری احتیاط ،ضبط نفس اور اشتیاق کےساتھ ان ساعتوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان کا استعمال کر کے اپنے نفس کو پاک صاف کرلینا چاہیے۔
     بہرحال ہم ان پاکیزہ جذبات کے ساتھ ماہ مبارک کا استقبال کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں راہ راست اور صراط مستقیم پر چلائے رمضان کی برکات و فیوض سے بہرہ ور فرمائیں۔ آمین