جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل ٹیم کی ایک اور تاریخ ساز کامیابی، شولا پور کے نوجوانوں کی ضمانت رد کرنے کے تعلق سے مدھیہ پردیش اے ٹی ایس کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج۔
ممبئی: دہشت گردی، ملک کے خلاف بغاوت اور مبینہ طور پر سیمی سے تعلق رکھنے کے الزامات میں شو لا پور مہاراشٹر سے گرفتار کئے گئے 4 مسلم نو جوان صادق لنجے، عمیر ڈنڈوتی عرفان مچھالے، اسماعیل ماشاڑ کر جنہیں ماہ ستمبر 2021 میں عدالت عالیہ سپریم کورٹ نے جمعیت علماءلیگل ٹیم کے اہم قانونی نکات پر مہر لگاتے ہوۓ ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ 
مدھیہ پردیش اے ٹی ایس نے مذکورہ بالانو جوانوں کی ضمانت رد کرنے کے لئے ایک پٹیشن داخل کی تھی جسے جمعہ کو عدالت عالیہ سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کومفت قانونی امدادفراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدرمولا نا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔ 
واضح رہے کہ شولا پور کے ان مسلم نو جوانوں کو دہشت گردی ممنوع تنظیم سیمی سے تعلق، پولیس پر فائرنگ اور جیل سے فرار ہونے میں مدد اور غیر قانونی ہتھیار وغیرہ جیسے کئی سنگین معاملات کے تحت مدھیہ پردیش اے ٹی ایس نے دسمبر ۲۰۱۳ میں گرفتار کیا تھا اور ان پر آئی پی سی، یواے پی اے، اور آرم ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
ان نو جوانوں پر اسپیشل سیشن کیس 541 / 2014 جو کہ یواے پی اے 13,10 ,16 ,39,38,18 تعزیرات ہند کی دفعہ 307 اور دھما کہ خیز ماده دفعہ 6,5,4 کے تحت چارج لگائے گئے تھے۔ ملزمین کی گرفتاری کے فوری بعد ان کے اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہا راشٹر اس کیس کی پیروی کر رہی تھی جمعیۃ لیگل ٹیم کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے انتہائی اہم قانونی نکات پر جارحانہ دفاع کا آغاز کیا تھا ،جس میں نمایاں طور پر یواے پی اےکیس میں مجسٹریٹ کی عدالت کو ریمانڈ کا اختیار نہ ہونے کا مدعی اٹھایا گیا تھا۔
مقدمہ کی جے ایم عدالت بھوپال خصوصی سیشن عدالت بھوپال سے ہوۓ جبل پور ہائی کورٹ اور آخر میں سپریم کورٹ میں طویل جد و جہد اور بحث کے بعد ان ملز مین کی ضمانت منظور کی گئی تھی جسے مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کی خصوصی تین رکنی بنچ پویوللت جسٹس ایس رویندر بھٹ جسٹس بیلا ترویدی کی بینچ نے واضح اور کھلے الفاظ میں جمعیۃ علماءلیگل سیل کے قانونی نکاۃ کے موقف میں تحریری طور واضح کر دیا کہ مجسٹریٹ عدالت کو یواے پی اے معامالات میں ریمانڈ دینے کا قطعی اختیار نہیں ہے  اور حکومت مدھیہ پردیش اور اے ٹی ایس کی ریو پٹیشن جو کہ کریمنل اپیل نمبر 963 / 2021 پرمشتمل تھی مستر دکر دیا ہے۔
اس فیصلے نے جمعیۃ علماءلیگل ٹیم کے جد جہد، انتہائی محنت، دوراندیشی اور قابل ستائش قانونی نکاۃ کوسپریم کا نظیر بناد یا جوصرف نہ اس کے لئے بلکہ ان جیسے سینکڑوں نوجوانوں کے معاملہ میں انصاف دلانے میں کارگر ثابت ہوگا۔