حجاب معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک کامطالبہ۔ 
نئی دہلی: کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو منگل کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناعی (اسٹے) کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ درخواست ایک مسلم طالبہ نبا ناز کی جانب سے دائر کی گئی ہے لیکن پیڑ یہ لڑکی ان 6 درخواست گزاروں میں شامل نہیں ہے، جنہوں نے حجاب کو لے کر ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ وہیں عدالت کے فیصلے کے بعد درخواست گزار طلبا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف نہیں ملا۔ ہم حجاب کے بغیر کالج میں جائیں گے اور پورے معاملے کو لے کر سپریم کورٹ جائینگے۔
وکیل انس تنویر نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ اڈپی کی طالبات اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی۔ سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر نے کہا کہ حجاب کیس کے سلسلے میں اڈبی میں اپنے موکل سے ملاقات کی۔ لڑ کیاں اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے حجاب کے اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ان لڑکیوں نے عدالت اور آئین سے امید نہیں چھوڑی ہے۔ فیصلہ سناتے ہوۓ عدالت نے کہا کہ حجاب کی تاریخ ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی عقائد سے متاثر ہوتا رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ خواتین معاشرے کے دباؤ میں برقع پہنتی ہیں جبکہ کچھ مختلف وجوہات کی بنا اپنی مرضی سے پہنتی ہیں۔

DT Network