یوپی اسمبلی الیکشن کے نتائج سے اٹھے چند سوال
اتواریہ: شکیل رشید 
تو کیا اب بے روزگاری، مہنگائی اور غربت ہمارا مسئلہ نہیں رہ گیا!
اگر یوپی کے الیکشن کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو لگتا کچھ ایسا ہی ہے۔ یوپی میں بڑی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہیں، اور مہنگائی ہے کہ آسمان کو چھورہی ہے۔ کورونا کی وباء نے لوگوں کی جیبیں خالی کردی ہیں، اور جو غریب ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ غریب ہوئے ہیں۔ یہ مسائل تو مرکزی اور ریاستی سرکاریں حل کرتی ہیں۔ روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کا کام ہے، غربت کو ختم کرنے کے  منصوبے بنانا بھی حکومت کا کام ہے او رمہنگائی کی رفتار پر قابو پانا بھی ۔ لیکن یوگی کی سرکار نے نہ بے روزگاری ختم کرنے کےلیے کچھ کیا، نہ روزگار کے مواقع فراہم کیے اور نہ ہی غربت سے لڑنے کی کوئی منصوبہ بندی کی، پھر بھی الیکشن جیت گئی۔ بی جے پی کو ۴۲ فیصد ووٹ ملے، اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اترپردیش  میں ہر ۱۰۰  میں سے ۴۲ لوگوں کے لیے مذکورہ مسائل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ تو پھر کون سا مسئلہ ہے یا کون سے مسائل ہیں جو ان کےلیے معنی رکھتے ہیں؟ اس سوال کاایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ ’ہندو توا‘ کا پروپیگنڈا ان کے دماغوں کو جکڑے ہوئے ہے۔ لیکن یہ جواب بھی سب پر، تمام ۴۲ فیصد پر، صادق نہیں آتا کیو ںکہ ایک بہت بڑی اکثریت ایسی ہے جس نے حکومت کی مفت اسکیموں کا فائدہ اُٹھایا ہے اور یوگی و بی جے پی کو اس لالچ میں ووٹ دیا ہے کہ مفت اسکیمیں جاری رہیں گی، انہیں مفت راشن ملتا رہے گا اور ان کا مفت علاج ومعالجہ ہوتا رہے گا۔ اس جواب کے علاوہ ایک جواب مزید ہے۔ یہ جو دلت اور پچھڑے طبقات ہیں یہ اب تک ’غلامانہ ذہنیت‘ سے مکمل آزاد نہیں ہوسکے ہیں، لہذا اعلیٰ ہندو جس طرف گئے، برہمنوں نے جس طرف کا رخ کیا ، یہ بھی بغیر کچھ سوچے سمجھے ان کے پیچھے چل پڑے۔ سیاسی شعور جسے کہاجاتا ہے وہ اب تک ان میں نہیں آسکا ہے، اور نہ ہی مسلمانوں میں۔ مسائل پر ووٹ کرنا اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب رائے دہندگان سوچیں گے، فرقہ وارانہ اور جذباتی باتوں سے منہ پھیریں گے، مندر ، مسجد ، حجاب، ساڑی کے چکر سے باہر نکلیں گے، تعلیم کی صورت حال پر غورکریں گے، غور کریں گے کہ انہیں سرکاری ملازمتیں کیسے  مل سکتی ہیں اور ملک کے حالات کیسے بہتر ہوسکتے ہیں۔ جب ایک انسان خود کو بدلے گا تب ہی سیاسی منظر نامے کو بدل سکے گا۔ کیرالہ میں جذبات رائے دہندگان کو بہت زیادہ متاثر نہیں کرتے کیوں کہ وہاں کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، بی جے پی اور سنگھ نے بھی مانا ہے کہ کیرالہ کے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ہی ہے جس نے کیرالہ میں اس کے قدم جمنے نہیں دئیے ہیں۔ اسی لیے بی جے پی کی مرکزی اور تعلیمی سرکاریں عام لوگوں کی تعلیم پر بہت زیادہ نہ توجہ دے رہی ہیں نہ ہی اس کی بہتری کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ سیاسی شعور کی بیداری کےلیے تعلیم لازمی ہے۔ جب لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے،  بھلے ہی ان میں کچھ فرقہ پرست ہوں، یوگی جیسے لیڈر کبھی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکیں گے۔