صالح سماج کی تشکیل کے تئیں میوات میں پنچایتوں کا سلسلہ جاری، برائیوں کے خلاف نوح میں 26 مارچ کو ہونے والی مہا پنچایت کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے خاطر میٹینگ کا انعقاد۔
نوح, میوات:(پریس ریلیز) آئندہ 26 مارچ کو برائیوں کے خلاف نوح میں منعقد ہونے والی مہا پنچایت کے سلسلے میں آج نوح ہیڈ کوارٹر میں ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں علمائے کرام اور نوح کے ایم ایل اے چودھری آفتاب احمد کے درمیان مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ سماج میں جڑ پکڑ رہی برائیوں کے خاتمے کے سلسلے میں میوات میں مسلسل ماہانہ علاقے کے مختلف خطوں میں اصلاحی پنچایتوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے،اس سلسلے کی نوح میں 26 مارچ کو تیسری پنچایت ہونے جا رہی ہے، نوح میں 26 مارچ کو کو ہونے والی پنچایت کے سلسلے میں آج ایک میٹینگ ہوئی، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے 26 مارچ کی پنچایت کو زیادہ سے زیادہ کس طریقے سے مؤثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں علماء کرام اور نوح ایم ایل آفتاب احمد نے آپسی تبادلہ خیال کر اس معاملے پر باہمی غور خوض کیا ۔ میٹینگ میں آفتاب احمد کی جانب سے پیش کی گئی یہ تجویز زیر بحث رہی کہ، خطہ میوات میں برائیوں کے خاتمے کے لیے ہونے والی اصلاحی پنچایتوں کو علمائے کرام کی مخلصانہ قیادت کے زیر انتظام رکھا جائے اور علمائے کرام کے تئیں جو لوگوں کی عقیدت ہے اس کے مطابق علمائے کرام خود عمل پیرا ہوتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی رہنمائی کرتے ہوئے تمام طبقات کو متحرک کریں ۔
 میٹنگ میں یہ تجویز بھی زیر بحث رہی کہ علمائے کرام خود زندگی کی تمام سیاسی سماجی معاشرتی اور ملی سرگرمیاں شریعت کے مطابق انجام دیں، تاکہ معاشرے کو وقت پر صحیح رہنمائی ملے ہو۔ چونکہ علماء انبیاء کرام کے حقیقی اور سچے وارث ہیں، ۔اور وہ انبیاء و رسل کے مشن کے حقیقی علمبردار ہیں۔ لہٰذا برائیوں میں مبتلا معاشرے کو مذہبی نقطہ نظر سے راہ دکھانے کا کام کریں۔  نوح کے ایم ایل اے چودھری آفتاب احمد  اور سابق ایم ایل اے چودھری ذاکر حسین نے پنچایت کے تمام انتظامات اور لوازمات کو بخوشی قبول کرتے ہوئے اپنے ذمہ لیا۔ آج کی میٹینگ میں شریک مولانا شیر محمد امینی زبیر احمد الوری، مولانا صابر قاسمی نائی ننگلہ کو یقین دلایا کہ علمائے کرام کی طرف سے جو بھی ذمہ داری انھیں دی جائے گی اسے بخوشی قبول کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ دونوں لیڈران نے علمائے کرام کو پنچایت اور اس کے مقصد کو کامیاب بنانے کی مکمل یقین دہانی کرائی، آفتاب احمد نے کہا کہ سماج کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سماجی صورتحال کے پیش نظر  معاشرے کے تمام طبقات کی سماجی اصلاح کے لیے علماء میوات جو بھی ذمہ داری سپرد کریں گے اس کو نبھانے کے لیے دن رات ساتھ دوں گا۔
 اس کے علاوہ 26 مارچ کو برائیوں کے خاتمے کے لیے ضلع ہیڈ کوارٹر کے نوح واقع ڈبلیو ڈی ریسٹ ہاؤس میں ہونے والی مہا۔ پنچایت کو مزید موثر اور کامیاب بنانے کے لیے 19 مارچ کو شام 4 بجے ریسٹ ہاؤس نوح میں میٹنگ رکھی گئی ہے۔  غور طلب ہے کہ میوات میں سماجی اصلاح کے سلسلے میں مسلسل پنچایتوں کا اثر اب زور پکڑ لگا ہے، جہاں نوح کے ایم ایل اے چودھری آفتاب احمد جہیز کی شادیوں میں شرکت کرنے سے کتراتے نظر آرہے ہیں۔ اور کھلے عام جہیز کی نمائش اور دکھاوے سے سختی سے منع کر رہے ہیں ۔وہیں گزشتہ دنوں علماء میوات کی کال پر میوات علاقے کے اہم لیڈر اور 36 برادری کے ذمہ داران چوہدری ذاکر حسین اور محمد آزاد کے بچوں کے درمیان ہوئے رسم مخالف رشتہ علاقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور ان کے ذریعے بغیر جہیز کے رشتہ کرنے کے قدم کو قابل ستائش قدم قرار دیا جا رہا ہے۔  
دانشمند لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وقت کی ضرورت ہے کہ گوتر پال کے نظام کی غلامی سے آزاد ہو کر رشتے قائم کیے جائیں۔ جس کی پہل میوات کے دونوں سیاسی گھرانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ طے کرکے عوام کو کئی بندھنوں سے آزاد ہونے کا پیغام دیا ہے اور اس فیصلے کو عوام کی جانب سے تاریخی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔