مسلمانوں کے لیے1947 اور 1857 سے بدتر حالات، مسلم پرسنل لاء بورڈ کا انتباہ۔
نئی دہلی:(آر کے بیورو)
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ ملک کے مسلمان اپنی مذہبی رسومات کے حوالے سے 1857 اور 1947 کے سالوں سے زیادہ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں بالخصوص مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ مسلم لاء پرسنل بورڈ کے خلاف کئے جارہے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ 
مولانا رحمانی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انتہا پسند قوتیں ہمیں دھوکہ دینا، اکسانا اور ہمارے نوجوانوں کو سڑکوں پر لانا چاہتی ہیں۔ ایسے میں حجاب کا مسئلہ بھی ہے، جو کرناٹک میں مسلمانوں کے لیے ایک بڑا امتحان بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ پہلے دن سے اس معاملے کو دیکھ رہا ہے اور اس کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے ۔

واضح ہو کہ مولانا نے اس تعلق سے رمضان سے عین قبل ایک ویڈیو جاری کرکے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں اسلام فوبیا کی لہر آئی ہوئی ہے حتی کہ ملک راجدھانی بھی اس کی ہوا سے محفوظ نہیں۔ براڑی میں ہندو پنچایت کا مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور جنوبی دہلی میں نوراتری کے بہانے گوشت کی خریدوفروخت پر پابندی اس کی مثال ہے۔