سری لنکا کا سیاسی بحران مزید گہرایا: اپوزیشن نے اتحادی حکومت کی تجویز مسترد کردی، پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری۔
سری لنکا ان دنوں اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ صدر گوٹابایا راجاپکسے کی قیادت پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ چکاہے۔ ایسے میں جہاں ملک بھر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں وہیں اپوزیشن نے پیر کے روز ایک بار پھر حکومت سے استعفی دینے کا مطالبہ دہرایاہے۔
اس سے قبل صدارتی دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر نے ’’پارلیمان میں نمائندگی کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا ہے کہ وہ اس قومی بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک ساتھ مل کر وزارتی عہدے قبول کریں۔‘‘
سب سے بڑے اپوزیشن اتحاد ایس جے بی نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ ایس جے بی کے عہدیدار رنجیت مدما بندرا نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا،’’اس ملک کے عوام چاہتے ہیں کہ گوٹابایا اور پوری راجا پکسے فیملی اقتدار چھوڑ دے اور ہم عوام کی خواہش کے خلاف نہیں جاسکتے اور ہم بدعنوان افراد کے ساتھ مل کر کام نہیں کرسکتے۔‘‘
بائیں بازو کی جماعت پیپلز لبریشن فرنٹ نے بھی تجویز کو ٹھکراتے ہوئے راجاپکسے اور ان کے خاندان سے فوراً اقتدار چھوڑ دینے کی اپیل کی۔ پارٹی کے رکن پارلیمان انورا دسا نائیکا نے کہا،’’اگر وہ (گوٹابایا)یہ سوچتے ہیں کہ اپوزیشن اراکین ان کی حکومت میں شامل ہو ں گے تو وہ یقیناً پاگل ہوں گے۔‘‘
ایک دیگر اپوزیشن جماعت تمل نیشنل الائنس نے بھی اتحادی حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا۔ ٹی این اے کے ترجمان اور رکن پارلیمان ابراہم سمانتھیرن نے کہا،’’یہ بکواس ہے اور ان کے استعفی کا مطالبہ کرنے والے عوام مزید مشتعل ہوں گے۔‘‘
ملک گیر ایمرجنسی اور کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کے روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ جس کے بعد گوٹابایاکابینہ کے تمام 26وزرا نے استعفی دے دیا تھا۔استعفی دینے والوں میں گوٹابایا راجاپکسے کے دو بھائی وزیر خزانہ باسل راجاپکسے اور وزیر آبپاشی چامل راجاپکسے شامل تھے۔ وزیر اعظم کے بیٹے اوراسپورٹس کے وزیر نامل راجاپکسے نے بھی استعفی دے دیا تھا۔
راجا پکسے خاندان کے افراد اور دیگر کابینی وزراء کے استعفوں کو عوام کی ناراضگی اور غصے کو کم کرنے کی کوشش قرار دیاجارہا ہے۔
اس دوران پورے ملک میں مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے۔
پیر کے روز مظاہرین نے جنوبی سری لنکا میں راجا پکسے خاندان کے گھر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے واٹر کینن استعمال کرکے انہیں منتشر کردیا۔
قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے سری لنکا پر 2019سے ہی راجا پکسے خاندان کی حکومت ہے۔ حکومت میں راجا پکسے خاندان کے متعدد افراد وزارتی عہدوں پر فائز ہیں۔
غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے سری لنکا ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی درآمدات کے لیے ادائیگی کرنے میں مشکلات سے دوچار ہے۔ ملک میں جہاں لازمی اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے وہیں گھنٹوں تک بجلی غائب رہتی ہے۔
صدر راجا پکسے کے اپنے عہدے سے دست بردار ہوجانے کے مطالبے میں شدت آنے کے بعد انہوں نے جمعے کی رات کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔حکومت نے ملک گیر کرفیو بھی نافذ کردیا تھا تاہم پیر کے روز اسے اٹھالیا گیا۔
حکام نے فیس بک، ٹوئٹر، یو ٹیوب، واٹس ایپ اور دیگرسوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی بھی کئی گھنٹوں تک مبینہ طور پر روک دی تھی۔