بی جے پی کے مسلم لیڈر کے ذریعہ مسجد میں دیئے کولرس  نمازیوں نے باہر پھینکے۔
 تلنگانہ :(ایجنسی)
بی جے پی اپنے مسلم لیڈروں کے ذریعہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن اس کوشش میں بی جے پی لیڈروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ایسے ہی ایک معاملہ میں بی جے پی کے ایک مسل لیڈر کو اپنے ہی قوم کے لوگوں کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل بی جے پی لیڈر نے مسجد کیلئے کولرس عطیہ کئے تھے لیکن نمازیوں نے اس عطیہ کو نامنظور کرتے ہوئے سبھی کولرس اٹھاکر مسجد کے باہر پھینک دئے۔
تلنگانہ کے وقار آباد ضلع کے بی جے پی لیڈر محمد انور نے نمازیوں کو گرمی سے نجات دلانے کیلئے مسجد کو کئی کولرس عطیہ میں دئے تھے ۔ اس دوران انہوں نے مسجد میں موجود لوگوں سے کہا کہ بی جے پی نے مسلمانوں کیلئے بہت کچھ کیا ہے ۔ بی جے پی مسلمانوں سے بہت محبت کرتی ہے ، دراصل کانگریس نے مسلمانوں کو بی جے پی سے دور کیا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ بی جے پی نے تین طلاق قانون لاکر مسلم خواتین کیلئے بہت اچھا کام کیا ہے ۔ مسلمان کافی خوش ہیں ۔ کانگریس نے مسلمانوں کیلئے کچھ نہیں کیا ، انہیں صرف استعمال کیا ہے ۔ اب ان کی ان باتوں کا اثر اب الٹا پڑتے دکھائی دے رہا ہے ۔ مسلمانوں نے بی جے پی کے ساتھ ساتھ محمد انور کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔
بی جے پی لیڈر محمد انور کی جانب سے مسجد کو عطیہ میں کولرس دینے کے بعد بھی وقارآباد کے مسلمان ان سے کافی ناراض ہیں ۔ مسلمانوں نے انور کی جانب سے مسجد کو عطیہ میں دئے کولرس اٹھاکر باہر پھینک دئے اور پھر سبھی کولرس کو مسجد کے باہر سے اٹھاکر ان کے گھر کے باہر لاکر پھینک دیا ۔ یہ واقعہ وقارآباد ضلع کے بونٹارام منڈل کے تورومامڈی علاقہ میں پیش آیا ہے۔