یوپی میں دہشت گردی کی دستک: حسام صدیقی
گورکھ پور: شہر کے مشہور اور آستھا کے ایک بڑے مرکز گورکھ ناتھ مندر کی سکیورٹی میں تعینات پولیس والوں پر بانکے سے حملہ کرنے والے مرتضیٰ عباسی کو پولیس اور جانچ ایجنسیوں نے ذا کر نائیک اور انٹرنیشنل دہشت گرد گروہ آئی ایس آئی ایس سے منسلک بتایا ہے۔ ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ہوم اونیش کمار اوستھی، اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر اور اے ٹی ایس اور ایس ٹی ایف کے ذمہ داران کے بیان کے مطابق جانچ کے دوران مرتضیٰ عباسی کے لیپ ٹاپ اور موبائل سے جو سراغ ملے ہیں وہ بہت خطرناک ہیں۔ مرتضی فیس بک اور لیپ ٹاپ پر ذاکر نائیک کے بیانات مسلسل سنتا رہتا تھا۔ مرتضیٰ کے خلاف پولیس اور ذمہ دار افسران جو کچھ بتا رہے ہیں اگر وہ غلط بھی ہو تو بھی گورکھ ناتھ مندر جیسی جگہ پر جا کر سکیورٹی میں تعینات افسران پر حملہ کرنا اور اللہ اکبر کے نعرے لگانا دہشت گردی ہی کہی جائے گی۔ مرتضیٰ کے والد منیر احمد عباسی کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ ذہنی طور سے بیمار ہے اس کا علاج چل رہا ہے۔ لیکن جانچ ٹیموں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ کسٹڈی میں اسے دماغی امراض کے ڈاکٹر کو بھی دکھایا گیا۔ ڈاکٹر کاکہنا ہے کہ اسے کوئی ذہنی مرض نہیں ہے۔ پکڑے جانے کے فوراً بعد مرتضیٰ نے کہا تھا کہ اس کی بیوی کے ساتھ اس کا تنازعہ چل رہا ہے۔ وہ اپنی زندگی سے اوب چکا ہے۔ اس نے جان بوجھ کر مندر کے سکیورٹی والوں پر حملہ کیا تھا تاکہ کوئی پولیس والا اسے گولی ماردے۔
مرتضیٰ نے آئی آئی ٹی ممبئی سے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے اگر اس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی بات سچ ہے تو یہ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کے لئے انتہائی تشویش ناک اور فکر کی بات ہے۔ مسلمانوں کا دہشت گردی میں ملوث ہونا یا دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنا کسی بھی قیمت پر مناسب بات نہیں ہے۔ اس معاملے میں پولیس کا یہ کہنا بھی کافی نہیں ہے کہ مرتضیٰ کے پاس سے عربی میں کچھ کتابیں ملی ہیں جن سے اس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ اگر ایسا کوئی لٹریچر برآمد ہوا ہے تو اس کا فوراً ترجمہ کرایا جانا چاہئے تھا جہاں تک عربی اور اردو کے لٹریچر کا سوال ہے شائد ہی کوئی مسلمان ہو جس کے گھر میں اس قسم کا لٹریچر موجود نہ رہتا ہو۔ اس لئے لٹریچر کا ترجمہ کرائے بغیر اس کی بنیاد پر ہی کسی کو دہشت گرد قرار دینا مناسب نہیں ہے۔
پولیس نےبتایا کہ گورکھناتھ مندر کے داخلی دروازےکے پاس تین اپریل کی شام مرتضی عباسی نام کا شخص مندر کیمپس میں بیگ لے کر جارہا تھا،تبھی وہاں تعینات بیسویں واہنی اعظم گڑھ پی اے سی کے جوان گوپال کمار گوڑ ولد رام چندر گوڑ اور انل پاسوان والد رام آنند پاسوان نے اس کو شک کی بنیاد پر روکا اور بیگ چیک کرنے لگے۔ اسی دوران اس شخص(عباسی) نے پیٹھ کے پیچھے چھپا کر رکھے بانکے سے گوپال گوڑ کی پیٹھ پر جبکہ انل پاسوان کی داہنی ران، بائیں ہتھیلی اور ہاتھ پر حملہ کیا اور دونوں کو بری طرح زخمی کردیا۔ ان دونوں کو زخمی کرکے وہ اندر بھاگا مگر اسے ایک دکاندار اور پولیس کے جوانوں نے گھیر کر پکڑ لیا۔ مندر میں موجود ناراض لوگوں نے اس کی پٹائی بھی کردی۔ پولیس نے زخمی پولیس والوں کو بی آر ڈی اسپتال میں بھرتی کرایا جہاں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہونچ کر ان کی خیریت پوچھی اور حملےمیں زخمی گوپال اور انل کے علاوہ مرتضیٰ عباسی کو پکڑنے میں اہم رول نبھانے والے سول پولیس کے جوان کو پانچ پانچ لاکھ روپئے انعام دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ حملہ آور کو مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں اسے چودہ دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔
حملہ آور مرتضیٰ عباسی کا تعلق گورکھپور کے ایک باوقار خاندان سے ہے۔ اس کے چچا کا ایک نرسنگ ہوم ہے جبکہ اس کے دادا وہاں مجسٹریٹ رہ چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے اے ٹی ایس بنا دی ہے۔ اب یوپی اے ٹی ایس اور ایس ٹی ایف اس معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ معاملے کی جانچ کررہی ایجنسیوں کو شک ہے کہ عباسی کا تعلق آئی ایس آئی ایس اور انصار غزواتل سے ہے۔ اے ٹی ایس عباسی کو لے کر سدھارتھ نگر اور مہاراج گنج لےگئی کیونکہ حملے سے دو دن قبل عباسی سدھارتھ نگر کے بانسی میں رکا تھا جہاں سے اس نے بانکا خریدا تھا۔ خبر لکھے جانے تک اے ٹی ایس گورکھپور، کشی نگر، مہاراج گنج اور سدھارتھ نگر میں بھی چھاپہ ماری کررہی تھی۔ اس معاملے میں این آئی اے بھی شامل ہوگئی ہے اور اب معاملے کی جانچ پروانچل سے نکل کر نیپال، ممبئی، جام نگر اور کوئمبٹور تک پہونچ گئی ہے۔ اس کی طلاق شدہ بیوی سے بھی مرتضیٰ کے بارے میں جانکاری لی جارہی ہے۔
مرتضیٰ عباسی کے بارے میں اے ٹی ایس نے ایک نیا انکشاف یہ کیا ہے کہ وہ مرتضیٰ کو اکیس مہینوں سے ٹریک کررہی تھی کیونکہ ۲۰۲۰ میں اے ٹی ایس نے گورکھپور کے ایک جاسوس کو پکڑا تھا جو اسی ٹریک کا شکار ہو کر ۲۰۱۴ اور ۲۰۱۸ میں پاکستان گیا۔ اسی جاسوس نے ائیرپورٹ اور گورکھ ناتھ مندر کے نقشہ پاکستان اپنے آقاؤں کے پاس بھیجے تھے۔ اسی جانچ کے دوران مرتضیٰ کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ اگر یہ بات صحیح ہے کہ اے ٹی ایس بارہ مہینوں سے مرتضیٰ کو ٹریک کررہی تھی تو گورکھ ناتھ مندر میں ہوا حملہ اے ٹی ایس کی ناکامی ہے یا پھر اے ٹی ایس نے جان بوجھ کر مرتضیٰ کو حملہ کرنے کی چھوٹ دی تاکہ معاملے کو دہشت گردی سے جوڑا جاسکے۔ فی الحال پولیس نے مرتضیٰ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ ۱۸۳/۱۵اے، ۳۰۷، ۳۳۲، ۳۳۳، ۳۵۳، ۳۹۴ اور سیون سی ایل اے ایکٹ میں کیس درج کیا ہے۔ عباسی کے پاس سے پولیس کو خون سے سنا بانکا،چار اے ٹی ایم کارڈ، مہراشٹر کا بنا ڈرائیونگ لائسنس ، پین کار، آدھار کارڈ، ایک آئی فون، لیپ ٹاپ وغیرہ برآمد ہوا ہے۔ ابھی اس معاملے کی جانچ شروع ہی ہوئی ہے مگر جانچ ایجنسیاں اس حملے کو دہشت گردانہ حملہ بتانے پر تل گئی ہیں۔
 اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے بتایا کہ ملزم کے پاس سے کئی مشکوک چیزیں برآمد ہوئی ہیں، جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایک سنگین سازش کا حصہ تھا۔ کمار نے کہا کہ ملزم کے پاس سے جو دستاویز برآمد ہو ئے ہیں وہ کافی سنسنی خیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ابھی شروعاتی مرحلے میں ہے۔ کمار نے کہا کہ ایک معاملہ پولیس پر حملہ کے سلسلے میں گورکھ ناتھ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے، جبکہ دھاردار ہتھیار کے معاملے میں ایک اور معاملہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملزم مندر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو بھکتوں کو نقصان ہوتا اور حالات بے قابو ہوجاتے۔ پولیس کے مطابق، ملزم نے تین اپریل کو’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگا کر جبراً مندر کیمپس میں گھسنے کی کوشش کی۔ وہیں، گورکھپور کے سینئر پولیس کپتان وپن ٹاڈا نے بتایا کہ حملہ آور کے خلاف دفعہ۳۰۷(قتل کی کوشش) سمیت مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اسے ریمانڈ پر لیا جائے گا اور پانچ ٹیم کے ذریعہ اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ حملہ آور سے حاصل جانکاری کی تصدیق کے لئے کئی پولیس ٹیم کو دیگر اضلاع میں بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کے قبضے سے برآمد سامان، اس کے کنبے، رشتہ داروں اور پس منظر کی بھی جانچ کی جارہی ہے اور جانچ رپورٹ کی بنیاد پر آگے کی کاروائی کی جائے گی۔ اس بیچ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، عباسی کے والد منیر مرتضیٰ کا دعویٰ ہے کہ عباسی کالج کے وقت سے ہی ڈپریشن کا شکار تھا اور خودکشی کی سوچتاتھا۔ انہوں نے میڈیا سے کہا،’وہ لگاتار بیمار رہتا ہے۔ وہ کام پر بلا وجہ ہی چھٹیاں لیتا تھا۔ جب میں رٹائر ہوا تو میں اسے واپس گورکھپور لے آیا کیونکہ وہ ذہنی طور سے تناؤ میں رہتا تھا‘۔ مرتضیٰ گریجوئیشن کے بعد دو سال پہلے تک ممبئی میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ ڈپریشن کی وجہ سے ہی اس کی نوکری چھوٹ گئی اس کی بیوی بھی چھوٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا بیمار ہے دہشت گرد نہیں ہے۔

لیڈ اسٹوری
جدیدمرکز، لکھنؤ
مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶ اپریل، ۲۰۲۲