میرٹھ کے سابق وزیر حاجی یعقوب قریشی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری، رہائشی اور فیکٹری پر قرقی کا نوٹس چسپاں۔
 میرٹھ: بند فیکٹری میں کروڑوں روپئے مالیت کے مبینہ غیر قانونی گوشت کی برآمدگی کے بعد اتر پردیش کے سابق وزیر یعقوب قریشی اور ان کے کنبے کے اراکین کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ تاہم وہ ابھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ سابق وزیر کی گرفتاری کے لئے پولیس کی کئی ٹیمیں دان رات دبش دے رہی ہیں لیکن کامیابی نہیں مل رہی۔ وہیں میرٹھ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ قریشی کی فیکٹری اور رہائش گاہ کو منہدم کرنے کے لئے نوٹس چسپاں کر دیا گیا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پربھاکر چودھری نے بتایا کہ عدالت سے گرفتاری وارنٹ ملتے ہی اڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پویس، چار ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور تھانوں کی پولیس کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ یہ ٹیم یعقوب قریشی، ان کی بیوی سنجیدہ بیگم، دونوں بیٹے عمران اور فیروز کی تلاش میں مشغول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام مفرور ملزمین پر شکنجہ کسنے کے لئے میٹ فیکٹری اور ان کی رہائش گاہ کی قرقی کی تیاری بھی کر لی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ میرٹھ۔ہاپوڑ روڈ پر واقع کھرکھودا کے علی پور گاؤں میں الفہیم میٹیکس پرائیویٹ لمیٹیڈ پر پولیس اور انتظامیہ کی ایک ٹیم نے ممنوعہ مویشی کاٹنے کی خبر پر گذشتہ 30 مارچ دیر رات چھاپہ ماری کی تھی۔ جس میں پولیس نے فیکٹری سے 2460 کوئنٹل گوشت برآمد کیا تھا۔ جس کی قیمت تقریبا پانچ کروڑ روپئے بتائی گئی تھی۔