ولادیمیر زیلینسکی اور روس کی فضیحت: ڈاکٹر تنویر گوہر۔ 
روس اور یوکرین کی جنگ کو قریب قریب دو مہینے ہونے کو ہیں۔ اس دوران روس نے یوکرین کو پست کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مگر وہ ابھی تک یو کرین کو فتح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور ایسا آگے بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ روس یوکرین کو جیت سکے گا ۔حالانکہ روسی حملوں نے یوکرین کو تقریباٌ تباہ و برباد کر دیا ہے مگر اُس کے حوصلے کی عمارت کو منہدم کرنے میں وہ ابھی تک ناکام ہی رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اس جنگ میں نہ صرف زبردست بہادری اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اپنی سیاسی فہم و فراست سے مغربی اور دوسرے ممالک سے یوکرین کے لئے ہمدردی اور مدد بٹورنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے ہتھیاروں نے بھی یوکرین کو روسی آرمی سے لڑنے میں خاصی مدد دی ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ اگر یوکرین کو یہ ممالک ہتھیار مہیہ نہ کراتے تو ممکن تھا کہ یہ جنگ روس کے حق میں اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتی۔ یہاں دشمن کا دشمن دوست والی کہاوت بھی صحیح ثابت ہوئی ہے۔ یعنی روس اور امریکہ کی پرانی دشمنی کا سیدھا فائدہ بھی یوکرین کو ملا ہے۔

اس جنگ کا انجام کیا ہوگا اس بات سے دگر ایک بات تو واضح ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی ہر طرح کے نقصان اور بربادی کے باوجود اپنی بہادری اور حوصلے سے روس کو زبردست ٹکر دینے کے سبب ایک ہیرو کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں اور دنیا کی نظر میں اُن کی تصویر ایک مرد آہن کی بنی ہے۔ ساتھ ہی یوکرینی شہریوں پر ہو رہے روسی مظالم کی وجہ سے روس اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو کہیں نہ کہیں فضیحت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔