گیان وا پی مسجد کا سروے روکنے سے سپریم کورٹ کا انکار، مبینہ 'شیو لنگ' کی حفاظت اور مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے نہ روکنے کا حکم۔
نئی دہلی: وارانسی میں گیان واپی مسجد سے متعلق ایک کیس کی سماعت جہاں وارانسی کورٹ میں ہوئی، وہیں دوسری طرف مسلم فریق کی عرضی پر سپریم کورٹ میں بھی ایک معاملہ سنا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے مسلم فریق کو غور سے سنا اور کہا کہ اس معاملے میں ذیلی عدالت میں سماعت چل رہی ہے جسے جاری رکھا جانا چاہیے۔
منگل کے روز معاملہ میں اہم سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ سول کورٹ کو مسلم فریق کی عرضی پر سماعت کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ گیان واپی مسجد میں ہوئے سروے اور شیولنگ برآمد ہونے سے متعلق تذکرہ کیے جانے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ وہاں کوئی شیولنگ ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ضلع مجسٹریٹ اس کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے۔‘‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے ہندو فریق اور یوپی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ دونوں کو 19 مئی تک رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ ’’ہم ذیلی عدالت کو ہدایت دینا چاہتے ہیں کہ جہاں شیولنگ ملا ہے اس جگہ کو محفوظ رکھا جائے، لیکن لوگوں کو نماز سے نہ روکا جائے۔‘‘ اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وضو خانہ میں شیولنگ ملا ہے، جو ہاتھ پیر دھونے کی جگہ ہے۔ نماز کی جگہ الگ ہوتی ہے۔
مسلم فریق کی عرضی پر عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہم ذیلی عدالت کو آپ کی عرضی کا نمٹارہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس پر مسلم فریق کے وکیل نے کہا کہ لیکن آپ احاطہ کو کیسے سیل کر سکتے ہیں؟ آپ موجودہ حالت کو بدل رہے ہیں۔ یہ ہمیں بغیر سنے پاس کیا گیا ہے۔ یہ سبھی غلط احکام ہیں۔ یہ ہماری بات سنے بغیر ملکیت کو سیل کرنے جیسا عمل ہے۔ آپ مسجد میں نماز کی جگہ کو بھی محدود کر رہے ہیں۔ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ وارانسی کی عدالت کو اس معاملے میں کوئی حکم نہیں دینا چاہیے تھا۔ سول معاملے میں کہا گیا ہے کہ اگر اپیل دائر ہے تو کیس پر غور نہیں کیا جا سکتا ہے۔
مسلم فریق نے عدالت میں یہ بھی بتایا کہ احاطہ کو سیل کرنے کا عدالتی حکم گیان واپی مسجد میں کافی جگہ کے مذہبی کیریکٹر کو بدل رہا ہے، جو وَرشپ پلیس ایکٹ اور سپریم کورٹ کے ایودھیا سے متعلق فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ فی الحال سپریم کورٹ نے ذیلی کورٹ کے فیصلوں کو محدود کر دیا ہے اور نمازیوں کو نہ روکنے کی ہدایت دی ہے۔ اب اس تعلق سے سپریم کورٹ میں 19 مئی کو سماعت ہوگی۔