مدرسہ کی عمارت کو منہدم کئے جانے اور قرآن کریم کی بے حرمتی پر جمعیۃ علماء اترپردیش نے کیا تشویش کا اظہار۔
کانپور: گھاٹم پورکے بھدرس روڈ واقع مدرسہ اسلامیہ کی اچھی خاصی عمارت گرائے جانے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس طرح کے واقعات انتہائی شرمندگی کے باعث ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ مدرسہ سے متصل کالج کی عمارت کو لے کر عدالت میں مسئلہ زیر سماعت ہے، اس کے باوجود ایس ڈی ایم آیوش چودھری، بلدیہ کے ایگزیکٹو افسر امیش مشرا اور سی او سشیل کمار دوبے بغیر کسی اطلاع کے فورس کے ساتھ بلڈوزر لے کر مدرسہ کی عمارت پہنچے اور غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی کی۔ یعنی عدالت میں مسئلہ کالج کی عمارت کا زیر سماعت ہے اور بلڈور مدرسہ کی عمارت پر چلایا گیا۔ 
یہاں پر نہ صرف بلڈوزر چلایا گیا بلکہ مدرسہ کی عمارت میں رکھے قرآن کے نسخے، دینی کتابوں کی بے حرمتی کی گئی،جو کہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ اس طرح کی کارروائی ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں خاص طور سے مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف کی بات ہے۔ مولانا نے کہا کہ افسران کا یہ جو رویہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ بغیر اطلاع،نوٹس یا کسی آرڈر کے، بغیر کوئی بات سنے آکر اچھی خاصی عمارت کو گرا دینے والا ہمارے ملک کیلئے، یہاں کے سسٹم اور عوام کیلئے نقصاندہ ہے۔ اگر اس پر فوری روک نہیں لگائی گئی تو آنے والے دنوں میں اس کے برے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ شہر کی ضلع انتظامیہ اور صوبائی ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ جو افسران خاص طور پر ایس ڈی ایم آیوش چودھری، بلدیہ کے ایگزیکٹو افسر امیش مشراسمیت دیگر لوگ اس غیر قانونی کارروائی میں شامل ہیں ان کے خلاف جانچ بیٹھائی جائے، لیگل عمارت کو توڑنے اور پاک مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ورنہ اس طرح کے واقعات سے تمام شہریوں خاص طور سے مسلمانوں کے دل بے چین ہیں، اگر فوری طور پر ایسے معاملوں میں کوئی مثبت پہل نہیں کی گئی تواس سے بے چینی بڑھے گی جو ہمارے لئے اچھی بات نہیں ہے۔
مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہر طرح سے تمام انصاف پسند شہریوں کے ساتھ ہر ایسے معاملے میں جہاں پر غیر قانونی طور پر انصاف پسند شہریوں کو دباکر ظلم کیا جاتا ہے، مظلومین کے ساتھ ہر موقع پر ساتھ کھڑی ہے۔ اس موقع پر بھیجمعیۃ علماء قانونی طور پر یا جس طرح سے بھی ضرورت پڑے گی مدرسہ اور مدرسہ کے ذمہ داران کے ساتھ ہے۔