یوپی اسمبلی میں اکھلیش یادو اور نائب وزیرِ اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے درمیان تیکھی نوک جھونک۔
لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان تقریباً 27 ماہ جیل میں رہنے کے بعد جیل سے باہر آتے ہی یوپی کی سیاست میں ایک الگ ہی گرما ہٹ آگئی ہے۔
اکھلیش یادو نے بدھ کو ودھان سبھا میں بجٹ اجلاس کے دوران اعظم خان کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ اعظم خان پر جانوروں کی چوری جیسے کیس چلائے گئے، لیکن وہ عدالت سے رہا ہو گئے، اعظم خان نے آنے والی نسلوں کے لیے یونیورسٹی بنا دی، ایسے شخص پر جھوٹے مقدمے بنائے گئے، میری بھی حکومت رہی ہے، لیکن ہم نے دباؤ میں آکر مقدمات درج نہیں کیے، صرف سیاست کی خاطر مقدمات درج نہیں کرنے چاہئیں۔
اپوزیشن پر نشانہ لگاتے ہوئے سابق یوپی سی ایم اکھلیش یادو نے کہا کہ آپ صرف لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں، آپ انگریزوں کی تقسیم کرو اور راج کرو پالیسی چاہتے ہیں۔ اس پر سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد کے درمیان زبردست بحث ہوئی۔
دریں اثنا، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنماؤں کو نائب وزیر اعلی کا احترام کرنا چاہئے، اور ان کی بات سننی چاہئے اور اس طرح کے ماحول کو خراب نہیں کرنا چاہئے. کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ ایس پی اگلے 25 سال تک اپوزیشن میں بیٹھے گی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ کیشو پرساد موریہ دوبارہ نائب وزیر اعلیٰ بنیں۔

کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ پچھلے ایس پی کے لوگ سڑکوں، ایکسپریس وے کی بات کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ سب انہوں نے سیفائی بیچ کر بنایا ہے۔ اس دوران اکھلیش یادو آگ بگولہ ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ آپ جو سرکاری کام کر رہے ہیں، سرکاری راشن دے رہے ہیں وہ کیا آپ اپنے والد کے پیسے دے رہے ہیں؟ جس کے بعد اسمبلی میں زبردست ہنگامہ ہوا رہا ہے ہاں