شاہین باغ بلڈوزر کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی سی پی ایم۔
   نئی دہلی: دہلی بی جے پی صدر آدیش گپتا کی طرف سے لکھے گئے خط کے بعد کارپوریشنوں کی طرف سے تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور تین دن پہلے جنوبی دہلی کے سنگم وہار میں بلڈوزر سے تجاوزات ہٹائی گئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے چلائی جا رہی یہ مہم 13 مئی تک جاری رہے گی۔
جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں بستیوں کو ہٹانے اور منہدم کرنے کے حکم کے خلاف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی ایم) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے حکام نے کچی بستیوں کو گرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگلے ہفتے میں اس پر عمل درآمد ہونے جا رہا ہے۔
عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 4 مئی کو سنگم وہار میں غریبوں کے گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا تھا اور اب پیر تک اوکھلا شاہین باغ میں بھی ایسا ہی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے پولیس انتظامیہ کو آنے والے ہفتے میں انہدام کے لیے اضافی پولیس فورس فراہم کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔
خیال رہے کہ 20 اپریل کو دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن (ایس ڈی ایم سی) اور شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی) کے میئر کو ایک خط لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے مبینہ روہنگیا، بنگلہ دیشیوں اور سماج دشمن عناصر کی غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جنوبی دہلی کے میئر مکیش سورین نے ایک میٹنگ کے بعد بتایا کہ سرکاری اراضی، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کو ہٹانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ہٹانے سے پہلے لوگوں کو نوٹس دیا جائے گا۔