راہ دعوت وعزیمت: حضرت مولانا کلیم صدیقی و حافظ ادریس قریشی نےجیل میں کیسے منائی عید۔

ایڈوکیٹ اسامہ ندوی  
تین مئی کو عید الفطر کی شام میں ہم گھر سے لکھنؤ کے کئے نکل گئے تھے جبکہ گھر پر کافی مہمان اور رشتہ دار ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے کیونکہ اگلے دن ہمیں ان بزرگوں کو عید کی مبارکباد پیش کرنی تھی جن کو دیکھ کر ہم آج تک عید مناتے ہوئے آئے تھے،جن کا وجود باعث رحمت و شفقت محبت مودت تھا(ویسے بھی اس بار کی عید زیادہ تر سوکر ہی گزری ہے) عید کی شام میں تین لوگوں پر مشتمل قافلہ ڈاکٹر نور علی و افضل انکل کی قیادت وسیادت میں اس ناچیز کی ڈرائیوری میں رات بھر سفر کرتے ہوئے بوقت فجر لکھنؤ پہنچا نماز ادا کری اور اب صبح کو جیل میں ملاقات کی فکر تھی سوئے نہیں تھے کہ آنکھ کھل گئی ساڑھے نو بج چکے تھے تینوں لوگ بیدار ہوئے جیل پہنچے کاروائی مکمل کرائی عید کی وجہ سے بھیڑ بے تحاشہ تھی اس وجہ سے ملاقات چار شفٹ میں ہوئی ہمارا نمبر آخری شفٹ میں یعنی ڈھائی بجے کے آس پاس آیا -
لوہے کی جالیوں کے پیچھے کھڑے ہوئے اللہ کے مقرب ترین نیک بندوں کی زیارت کرتے ہی ہمیں تو عیدی مل گئی،حضرت مولانا نے لاڈ کرتے ہوئے مجھ سے کہا چین نہیں ملا؟،عید کے دن بھی گھر نہیں رہا گیا ؟ایک دو دن تو گھر گزار لیتے ،ڈاکٹر صاحب اور افضل انکل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ لوگ کیوں پریشان ہوگئے ہو ؟ ہم نے کہا آپ کا دیدار ہی ہماری عیدی ہے،تمام لوگوں سے حال چال خیریت پوچھی سب لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے احوال بیان کرے،والد محترم حافظ ادریس صاحب نے تسلی بھرے لہجے میں کہا ہم نے بہت اچھی عید منائی ہے،حضرت نے اور میں نے نماز عید پڑھائی تھی اور نماز کے بعد ہم دونوں نے پورے سرکل کو اندر کینٹین سے پراگ ڈیری کی کھیر اور کھجور اور نمکین کے پیکیٹ بناکر بانٹے ہیں،ماشاء اللہ بہت مزہ آیا ۔
حضرت مولانا اور حافظ صاحب کے چہرے ایسے چمک رہے تھے جیسے اللہ رب العزت نے رمضان المبارک میں ان قیام لیل وصوم نہار کو قبول فرما لیا ہو اور انعام میں ان کے چہروں کونورانیت اور بشاشت بخش دی ہو،حضرت مولانا نے تسلی بھرے جملے کہے اور افضل انکل سے بات چیت کرنے لگے میں نے باری باری سرفراز جعفری ڈاکٹر عاطف کی خیر و عافیت جانی سب لوگوں نے بہت دعائیں دی-
حضرت مولانا اس جیل کو اپنے لئے زحمت نہیں بلکہ اللہ کی مصلحت اور شعب ابی طالب کی نبی کریم کی سنت بتا رہے تھے،کہہ رہے تھے کہ اللہ نے ہمیں مقصد کے تحت جیل بھیجا ہے، جب کام پورا ہوجائے گا اللہ انہیں باہر نکال دے گا۔
لگ بھگ ایک گھنٹے کی ملاقات اور بات چیت نصیحت و ارشاد کے بعد اندر سے پولس اہلکاروں نے حضرت مولانا و حافظ صاحب سے چلنے کی درخواست کری جس کے بعد ہاتھوں کو اٹھا کر دعائیں دیتے ہوئے تمام لوگ امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اندر چلے گئے ہم لوگ بھی دل پر پتھر رکھ کر واپس چلے آئے ۔