مشہور مفسر قرآن حضرت مولانا نثار احمد کا انتقال، علمی حلقوں کی فضا سوگوار۔
سہارنپور: جامعہ مظاہر علوم وقف سہارن پور کے سابق استاذ تفسیر وحدیث اور مشہورِ مفسر قرآن حضرت مولانا نثار احمد کا علالت کے باعث انتقال ہو گیا ہے، ان کے انتقال کی خبر سے علمی حلقوں کی فضا سوگوار ہو گئی۔
مرحوم تقریبا 54 سال کے تھے اور گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک بڑے اسپتال میں ان کا علاج چل رہا تھا جہاں رات تقریبا دو بجے وہ مالکِ حقیقی سے جاملے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔
ان کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف دیوبند، مظاہرعلوم سہارنپور اور مظاہر علوم وقف سہارنپور کے ذمہ داران کے علاوہ آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر حضرت مولانا حکیم عبداللہ مغیثی، جامعہ رحمت گھگرولی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی سمیت نامور علماء اور سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کے انتقال کو عظیم علمی اور ملی خسارہ قرار دیا، اللہ تعالی مرحوم کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے۔ اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے علماء نے صبر کی تلقین۔

مرحوم مولانا نثار احمد حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کے خلیفہ اور دارالعلوم الخیریہ سندر پور کے بانی تھے۔ مرحوم کی نمازہ جنازہ قبرستان حاجی شاہ کمال شہر سہارن پورمیں تقریبا دو بجے دوپہر ادا کی جائے گی۔
اللہ رب العزت والجلال حضرت مولانا قدس سرہ کی زندگی بھر کی دینی وملی،اصلاحی وفلاحی خدمات جلیلہ کوشرف قبولیت عطافرمائے.ان کے اہل خانہ اورتلامذہ و عزیز و اقارب اورتمام متعلقین ومنتسبین کوصبرجمیل عطافرمائے.

سمیر چودھری۔