گیانواپی مسجد کے وضو خانہ میں شیولنگ ملنے کے دعوے کو مسجد کمیٹی نے  کیا خارج، فوارے کو شیولنگ بتا کر ملک کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
وارانسی: وارانسی کی گیانواپی مسجد میں عدالت کے حکم پر کرائے گئے سروے میں سروے کے تیسرے اور آخری دن ہندو فریق کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد کے احاطے وضو کرنے کے لیے بنائے گئے تالاب میں شیولنگ موجود ہے۔  یوپی کی ایک عدالت نے اس تالاب کو سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔
تاہم انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کے وکیل نے کہا ہے کہ جو فریق دعویٰ کرتے ہیں کہ 'شیولنگ' مل گیا ہے وہ صرف گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وضو خانہ میں کوئی شیولنگ نہیں ملا ہے۔ بلکہ یہ فوارہ ہے جسے شیو لِنگ کہہ کر ملک کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
وکیل رئیس احمد انصاری نے کہا، 'گیانواپی مسجد کے وضو خانہ میں صرف ایک فوارہ ہے۔ جس ڈھانچہ کو شیولنگ کہا جا رہا ہے وہ ایک فوارہ ہے۔ یہ تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ معلومات کے مطابق نماز مسجد کے اوپری حصے میں پڑھی جاتی ہے۔ وضو کرنے کی جگہ بھی وہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس تالاب میں شیولنگ پایا گیا ہے۔ عدالت نے اس علاقے کو سیل کرنے اور سخت پہرہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کسی کے بھی داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
درحقیقت، جیسے ہی سروے مکمل ہوا، ہندو فریق کے لوگ "ہر ہر مہادیو" نعرے لگاتے ہوئے گیانواپی مسجد سے باہر آئے اور دعویٰ کیا کہ تالاب میں ایک شیولنگ ملا ہے جہاں مسلمان نماز سے پہلے وضو کرتے ہیں۔
ہندو فریق کے وکیل سبھاش نندن چترویدی نے کہا کہ ہم نے کل بھی اعتراض اٹھایا تھا اور آج جب پانی ہٹایا گیا تو وہاں شیولنگ نظر آیا، جب کہ ہندو فریق سوہن لال آریہ نے کہا کہ بابا مل گئے ہیں، 
اس کے ساتھ ہی، جب تک مسلم فریق کچھ سمجھ پاتا، یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں پہنچ گیا، ہندو فریق نے وارانسی کی عدالت میں عرضی دائر کر کے مطالبہ کیا کہ جس تالاب میں مبینہ شیولنگ پایا گیا ہے، اسے فوری طور پر سیل کر دیا جائے۔ جس کے بعد عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مسجد کے اندر موجود تالاب کو فوری طور پر وضو کے لیے سیل کرنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب مسلم فریق نے شیولنگ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندو فریق جسے شیولنگ کہہ رہا ہے وہ ایک خراب فوارہ ہے، ساتھ ہی مسلم فریق نے دعویٰ کیا کہ وضو کرنے والے تالاب کو ان کی بات سنے بغیر سیل کر دیا گیا، گیانواپی مسجد کے ایڈوکیٹ رئیس احمد انصاری نے کہا کہ وہ فوارہ کو شیولنگ بتا کر پورے ملک کو گمراہ کر رہے ہیں۔ رئیس نے کہا، 'عدالت نے جلد بازی میں حکم دیا ہے۔ ہم اس حکم سے مطمئن نہیں ہیں اور اسے چیلنج کریں گے۔ مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ منگل کو اس عرضی پر سماعت کرے گی۔الہ آباد ہائی کورٹ نے عدالت کی طرف سے مقرر کمشنر کو گیانواپی میں سروے کرنے کا حکم دیا تھا۔
غور طلب ہے کہ اس پورے معاملے کے لیے منگل کا دن بہت اہم ہونے والا ہے، جہاں ایک طرف ایڈوکیٹ کمشنر عدالت میں اپنی رپورٹ داخل کریں گے، وہیں دوسری طرف سپریم کورٹ گیانواپی میں سروے پر پابندی لگانے کی درخواست پر سماعت کرے گی۔

سمیر چودھری۔