یوگی سرکار نے غیر مستحقین مفت راشن خوروں کو دیا سخت الٹی میٹم، 20 مئی تک راشن کارڈ جمع نہ کرانے پر قانونی کارروائی کا انتباہ۔
لکھنؤ:  دو مہینے قبل اختتام پذیر یوپی اسمبلی انتخاب کو لے کر سیاسی پنڈتوں کا تجزیہ تھا کہ ریاستی حکومت کی مفت راشن اسکیم نے بی جے پی کو ایک بار پھر اقتدار میں واپس لوٹنے میں مدد کی ہے۔ جیت سے پرجوش وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت ریاست کے 15 لاکھ غریبوں کو مفت راشن آئندہ تین مہینے تک دینا جاری رکھے گی۔ لیکن اپریل مہینہ شروع ہوتے ہی یوپی حکومت نے حکم جاری کر دیا کہ جو لوگ اس منصوبہ کے لیے اہل نہیں ہیں، وہ اپنا راشن کارڈ 20 مئی تک سرینڈر یعنی جمع کر دیں، ورنہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔
واضح رہے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران راشن کارڈ یافتگان کو ہر مہینے دو بار مفت راشن ملتا رہا ہے۔ ایک بار مرکزی حکومت کی طرف سے اور ایک بار یوپی حکومت کی طرف سے۔ اس دوران کئی طرح کی شکایتیں بھی سامنے آئیں کہ بہت سے نااہل لوگوں کو بھی مفت کا راشن مل رہا ہے، لیکن یوپی حکومت اسے نظر انداز کرتی رہی کیونکہ انتخاب سر پر تھے۔ انتخابی تشہیر کے دوران بی جے پی نے مفت راشن لینے والے لوگوں کا ایک الگ گروپ ’لابھارتھی‘ کے طور پر سامنے رکھا اور انھیں ایک طرح سے ووٹ بینک بنا لیا۔ اب جب کہ انتخابی نتائج برآمد ہو چکے ہیں اور بی جے پی جیت کر اقتدار پر پھر سے قابض ہو چکی ہے تو حکومت نے مفت راشن منصوبہ میں تخفیف کی سمت میں پہلا قدم اٹھا لیا ہے اور شروعات ان کی تعداد کم کرنے کی مہم سے کی جا رہی ہے۔
سرکاری ضابطوں کے مطابق اگر کسی کنبہ کا کوئی ایک رکن بھی انکم ٹیکس ادا کرتا ہے، یا کسی کنبہ کے کسی ایک رکن کے پاس اسلحہ لائسنس ہے، یا کسی کنبہ کی سالانہ آمدنی شہروں میں 3 لاکھ اور گاؤں میں 2 لاکھ روپے ہے، یا کسی کنبہ کے پاس اپنا مکان، دکان، فلیٹ یا 100 اسکوائر فٹ کی کوئی کمرشیل ملکیت ہے، یا کسی کنبہ کے پاس چار پہیہ گاڑی، ٹریکٹر، ہارویسٹر، اے سی یا جنریٹر ہے تو ایسے کنبہ کو مفت راشن منصوبہ کا اہل نہیں مانا جائے گا اور انھیں مفت راشن نہیں دیا جائے گا۔
ایک افسر نے بتایا کہ ایسے نااہل لوگ جو 20 مئی تک اپنا راشن کارڈ سرینڈر نہیں کریں گے تو ان کے پاس ریکوری نوٹس بھیجا جائے گا اور سی آر پی سی کے تحت ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ ایسے لوگوں سے وصولی مفت راشن منصوبہ کے گائیڈلائنس کے مطابق کی جائے گی۔ افسر نے کہا کہ لوگ اپنا راشن کارڈ بلاک دفتر یا ضلع سپلائی دفتر میں جمع کر سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں سبھی ضلع مجسٹریٹس نے بھی حکم جاری کر دیا ہے۔ افسران کے مطابق وصولی عمل میں فی کلو گیہوں کے لیے 24 روپے اور فی کلو چاول کے لیے 32 روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ اور یہ جرمانہ اس وقت سے نافذ ہوگا جب سے نااہل کنبہ یا شخص نے مفت راشن لینا شروع کیا ہے۔
دراصل یوپی میں دو طرح کے راشن کارڈ ہیں۔ ایک ہے ’انتودے اَن یوجنا‘ اور ایک ’پراتھمک پریوار کارڈ‘ یا ’پرایوریٹی ہاؤس ہولڈ کارڈ‘۔ ایسے کنبے جن کی آمدنی شہروں میں 3 لاکھ اور گاؤں میں 2 لاکھ روپے سالانہ ہے انھیں ’پرایوریٹی ہاؤس ہولڈ کارڈ‘ کا اہل مانا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس اپنا گھر نہیں ہے، کوئی طے آمدنی یا ہنر نہیں ہے، یعنی وہ سماج کے غریب ترین طبقے کے ہیں تو انھیں ’انتودے اَن یوجنا‘ کے کارڈ دیئے جاتے ہیں۔