دہلی میں بلیک آؤٹ کا اندیشہ،کوئلہ کی شدید کمی۔
نئی دہلی :(ایجنسی)
شدید گرمی میں بجلی کی طلب مسلسل ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پلانٹس میں کوئلے کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بجلی کا بحران بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سارا سمر ایکشن پلان بھی ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک آؤٹ کی صورت میں نہ تو بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا پاور بینکنگ سسٹم ہی نہ تو کار آمد ثابت ہوگا اور نہ ہی ’ہوا‘ اور شمسی توانائی۔
طویل مدتی معاہدوں کے تحت دہلی کے پاور پلانٹس کو مرکز اور ریاستوں کے پاور پلانٹس سے باقاعدہ سپلائی ملتی ہے۔ پاور بینکنگ سسٹم ایمرجنسی کی صورت میں بھی کام کرتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو پاور کمپنیوں کو 690 میگاواٹ بجلی ملے گی۔

کمپنیوں کے پاس ہماچل پردیش، میگھالیہ، سکم، گوا، اروناچل پردیش اور تمل ناڈو میں پاور پلانٹس کے معاہدے ہیں، لیکن کوئلے کے بحران کی وجہ سے دہلی کو اس سسٹم کے تحت بجلی نہیں ملے گی۔ اس کے علاوہ پاور کمپنی 600 میگاواٹ سولر پاور، 300 میگاواٹ ونڈو پاور اور کچرے سے 31 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ ساتھ ہی گھروں کی چھتوں پر لگائے گئے روف ٹاپ سولر پلانٹس سے 126 میگاواٹ شمسی توانائی کی دستیابی کے باوجود دہلی کو اندھیرے میں ڈوبنے سے نہیں بچایا جا سکتا۔