گیان واپی مسجد قضیہ فرقہ پرست عناصر کی شرارت، مولانا محمود مدنی نے حالات کے تناظر میں جاری کی خاص اپیل۔
نئی دہلی : جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گیان واپی مسجد کا قضیہ، فرقہ پرست عناصر کی شرارت کی وجہ سے،ان دنوں عوامی اور عدالتی سطحوں پر زیر بحث ہے۔ کچھ شرپسند عناصراور متعصب میڈیا، جذباتیت سے نتھی کرکے دو فرقوں کے درمیان فتنہ پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایسے حالات میں جمعیۃ علماء ہند سبھی اہل وطن بالخصوص مسلمانان ہند سے دردمندانہ اپیل کرتی ہے کہ:

(۱) گیان واپی مسجد وغیرہ کے مسئلے کو سڑک پر نہ لایا جائے اورہر طرح کے عوامی مظاہروں سے گریز کیا جائے۔
(۲) اس معاملے میں مسجد انتظامیہ کمیٹی فریق کی حیثیت سے مختلف عدالتوں میں مقدمہ لڑرہی ہے، ان سے امید ہے کہ وہ مضبوطی سے یہ مقدمہ اخیر تک لڑیں گے۔ملک کی دوسری تنظیموں سے اپیل ہے کہ وہ براہ راست اس میں مداخلت نہ کریں۔جو بھی مدد کرنی ہے وہ بواسطہ انتظامیہ کمیٹی کی جائے۔
(۳) علماء، مقررین و اعظین اور ٹی وی مناظرین سے اپیل ہے کہ وہ ٹی وی ڈیبیٹ اور مباحثوں میں شرکت سے احتراز کریں۔ یہ قضیہ عدالت میں زیر بحث ہے، اس لیے پبلک ڈی بیٹ میں اشتعال انگیز مباحثے اور سوشل میڈیا پر تقاریر ہرگز ہرگز ملک اور ملت کے مفاد میں نہیں ہیں۔

سمیر چودھری۔