جانئے کیا ہے گیان واپی مسجد کا تنازعہ اور کیا ہیں ہندستان کی سیاست میں اس کے معنی۔
وارانسی: گیان واپی مسجد کے معاملہ نے تو پکڑ لیا اور گُزشتہ روز مسجد کمیٹی سے متعلقہ فریقوں نے احاطے کی ویڈیو گرافی اور سروے کے خلاف احتجاج درج کرایا تھا۔اس سے قبل ٹیم جب احاطے میں پہنچی تو کچھ نوجوانوں نے ہر ہر مہادیو کا نعرہ لگایا جس کے جواب میں مسلم نوجوانوں نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند کیں۔ کچھ دیر کےلیے ماحول کشیدہ ہوگیا، دکانیں بند ہوگئیں، لیکن پولس نے مستعدی سے حالات پر قابو پایا اور سخت سیکوریٹی کے حصار میں سروے کا کام شروع کیاگیا۔
عرضی دائر کرنے والی پانچوں خواتین کے وکیل شیوم گوڑ نے بتایاکہ سروے پورا ہونے میں تین دن لگ سکتا ہے۔ ایسے میں اتنے بڑے علاقے کا سروے اتوار تک مکمل ہونے کی امید ہے۔پہلے دن کا سروے جمعہ کو دیر شام ختم ہوگیا ہے۔ سروے کے بعد باہر آئے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے ایڈوکیٹ کمشنر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گیان واپی احاطے میں پچھم کی طرف واقع چبوترے کی ویڈیو گرافی کرائی گئی ہے اس کے بعد ۵ بج کر ۴۵ منٹ پر ایڈوکیٹ کمشنر نے گیان واپی مسجد کے داخلی دروازے کو کھلوا کر اندر جانے کی کوشش کی تو ہم نے مخالفت کی، انہوں نے بتایاکہ عدالت کا ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ آپ بریکیڈنگ کے اندر جاکر ویڈیو گرافی کرائیں لیکن ایڈوکیٹ کمشنر نے کہاکہ انہیں ایسا حکم ہے۔
مسجد کی دیوار کو انگلی سے کریدا جارہا تھا، جبکہ ایسا کوئی حکم عدالت نے نہیں دیا تھا اس لیے ہم ایڈوکیٹ کمشنر پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ 
بتادیں کہ سروے کے دوران مسجد کے دونوں تہہ خانوں کا بھی سروے کیا جائے گا جن میں سے ایک تہہ خانے کی کنجی انتظامیہ کے پاس اور دوسرے کی کنجی مسجد کے فریق کے پاس ہے۔ ساتھ ہی اس دوران ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بھی ہوگی۔ 
دراصل ۱۹۹۲میں ایودھیا تنازعہ کے بعد بنارس میں گیانواپی شریکاشی وشواناتھ کمپلیکس کے تنازع نے ۲۰۲۰سے نیا موڑ لیا ۔اگست ۲۰۲۰میں شرینگر گوری میں واقع گیانواپی کمپلیکس کے مغربی سرے پر مندر جانے کے لیے پانچ خواتین کی جانب سے دائر درخواست پر عدالت کے حکم کے بعد یہاں سروے کا کام شروع ہوگیا ہے۔کمیشن کی کارروائی کے دوران نگرانی کےلیے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی ٹیم بھی پہنچی ہوئی ہے۔ سروے مکمل ہونے کے بعد اس کی رپورٹ ۱۰ مئی تک عدالت میں پیش کی جائے گی، وہیں اس سروے کو لے کر وارانسی کمشنریٹ اور وارانسی گرامین کے سبھی تھانوں کی فورس کے ساتھ مقامی انٹلی جنس یونٹ کو اضافی احتیاط برتنے کو کہاگیا ہے۔ مسلم علاقوں میں گشت بڑھا دی گئی ہے، سوشل میڈیا پر سخت نگرانی برتی جارہی ہے۔
وہیں دوسری طرف ایک خاتون کاشی وشواناتھ مندر کے گیٹ نمبر چار پر نماز پڑھنے لگی، یہ دیکھ کر پولس حرکت میں آئی اور اسے حراست میں لے لیا۔ خاتون کے جھولے کی تلاشی لے گئی تو اس میں دیوی دیوتائوں کی تصویروں کے ساتھ دماغی امراض کے اسپتال کی رپورٹ ملی ہے، وٹرآئی ڈی کارڈ اور شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون ذہنی مریضہ ہے۔ خاتون کا نام عائشہ اور اس کے شوہر کا نام حنیف ہے۔ ان کا علاج ڈاکٹر اجے کمار سنگھ کی نگرانی میں کیاجارہا ہے۔ آئیں جانتے ہیں کیا اور کب سے ہے گیان واپی مسجد تنازعہ۔
کب دائر ہوا معاملہ
یہ تقریباً 30 سال پرانا معاملہ ہے، جب سال 1991 میں پجاریوں کے گروپ نے بنارس کی عدالت میں عرضی دائر کی تھی، جنہوں نے گیان واپی مسجد علاقے میں پوجا کی اجازت مانگی تھی۔ ان لوگوں نے عدالت میں یہ دلیل دی کہ اورنگ زیب نے کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر گیان واپی مسجد کی تعمیر کرائی تھی۔ ایسے میں انہیں احاطے میں پوجا کی اجازت دی جائے۔ اس معاملے میں مسجد کی نگرانی کرنے والی انجمن انتظامیہ مساجد کو مدعا علیہ بنایا گیا۔ تقریباً 6 سال کی سماعت کے بعد 1997 میں عدالت نے دونوں فریق کے حق میں ملا جلا فیصلہ سنایا۔ جس سے دونوں فریق ہائی کورٹ چلے گئے اور الہ آباد کورٹ نے 1998 میں لور کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں ہی رہا۔

سال 2018 میں پھر سے کیس میں آئی تیزی
تقریباً 20 سال بعد 2018 میں مقدمے میں وکیل رہے ونے شنکر رستوگی نے next friend کے طور پر عرضی دائر کی اور دسمبر 2019 میں یہ کیس پھر سے کھل گیا۔ اہم بات یہ تھی کہ اس کے ٹھیک ایک ماہ پہلے ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آیا تھا اور رستوگی کی عرضی پر اپریل 2022 میں عدالت نے گیان واپی احاطے کا آثار قدیمہ کا سروے کرنے کا حکم دیا اور اسی بنیاد پر اب احاطے کا سروے کیا جا رہا ہے۔

مندر توڑ کر مسجد کی تعمیر کی گئی؟
کاشی وشوناتھ مندر اور اس سے متصل گیان واپی مسجد کے بننے کو لے کر الگ الگ طرح کی مفروضے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ اورنگ زیب نے مندر توڑ کر گیان واپی مسجد بنوائی۔ جبکہ مسلم فریق کا ماننا ہے کہ دونوں الگ الگ بنائے گئے اور مسجد بنانے کے لئے کسی مندر کو نہیں توڑا گیا، جہاں تک کاشی وشوناتھ مندر کی تعمیر کا سوال ہے تو اس کا سہرا اکبر کے درباری راجا ٹوڈرمل کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے سال 1585 میں برہمن نارائن بھٹ کی مدد سے کرایا تھا۔ اسی بنیاد پر ہندو فریق کا ماننا ہے کہ اورنگ زیب کی مدت میں مندر توڑ کر گیان واپی مسجد بنائی گئی۔ حالانکہ اس پر مورخین کا اتفاق رائے نہیں ہے۔ کچھ ہندو فریق کی دلیل کو صحیح بتاتے ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ مندر کو توڑا نہیں گیا تھا۔

ہندوستانی سیاست میں کیا ہے اہمیت
جس طرح ایودھیا کو لے کر رام مندر تعمیر کا فیصلہ آیا اور اس کے ایک ماہ بعد گیان واپی کیس شروع ہوا۔ اسے دیکھتے ہوئے اس فیصلے کا ہندوستانی سیاست پر بڑا اثر نظر آسکتا ہے۔ کیونکہ موجودہ وقت میں مرکز کے اقتدار میں بیٹھی بی جے پی کے لیڈروں کی طرف سے اس طرح کے بیانات ہمیشہ آتے رہے ہیں کہ ایودھیا تو جھانکی ہے، کاشی-متھرا باقی ہے۔ اصل میں ایودھیا کی طرح بھلے ہی بی جے پی نے کاشی-متھرا کو لے کر تجویز منظور نہیں کی ہو، لیکن پارٹی کے لیڈران کا یہ ماننا ہے کہ کاشی متھرا تنازعہ کا بھی حل نکلنا چاہئے۔ ایسے میں جب گیان واپی مسجد احاطے میں سروے شروع ہو رہا ہے۔ تو طے ہے کہ اس کے بڑے سیاسی اثرات ہوں گے۔