’سب سے زیادہ ظلم اپنوں نے کیا‘،رامپور پہنچنے پر اعظم خاں کاچھلکا درد۔
رامپور :(ایجنسی)
اعظم خاں 27 ماہ بعد سیتا پور جیل سے باہر آئے ہیں۔ 19 مئی کو سپریم کورٹ نے انہیں عبوری ضمانت دے دی تھی۔ جس کے بعد وہ جمعہ کو جیل سے باہر آئے۔ رہائی کے بعد اعظم خاں رامپور پہنچ گئے ہیں۔ جہاں ان کے حامیوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور پرتپاک استقبال کیا۔ اس دوران ان کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
جوہوا اسے بھول نہیں سکتے
جیل سے رہا ہوکر814دن بعد رامپور واقع اپنے گھر پہنچے اعظم خاں نے حامیں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ان کے پریوار کے ساتھ جو جو ظلم ہوئے انہیں بھول نہیں سکتے۔
اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر کو اجاڑ دیا گیا ۔ میرا 40 سال کا سفر رائیگاں نہیں جائے گا۔ میرا وقت پھر سے آئے گا۔
جیل میں انہوں کس طرح سے وقت گزارا ،اس بارے میں بات کرتے ہوئے اعظم خاں نے کہاکہ رات ہوتی تھی تو صبح اور صبح ہوتی تھی تو رات کاانتظار کرتے تھے ۔ مجھے سزا یافتہ قیدی کی طرح جیل میں رکھا گیا۔

اشاروں-اشاروں میں نشانہ
اس دوران انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تاہم کہا کہ سب سے زیادہ ظلم تو میرے اپنوں نے کئے ہیں۔ اعظم کے اس بیان کو براہ راست سیاست سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

رامپور سرحد پر پولیس نے قافلے کو روکا
اس سے پہلے رامپور کی سرحد پر یوپی پولیس نے اعظم خاں کے قافلے کو تقریباً 20 منٹ تک روک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اعظم خاں کے قافلے میں بہت زیادہ گاڑیاں تھیں اور گاڑیاں کم کر دیں۔ اس کے بعد اعظم خاں5 گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گھر روانہ ہوئے۔ رامپور میں گھر پہنچنے سے پہلے اعظم خاں کا جگہ جگہ استقبال کیا گیا اور حامیوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔