گیان واپی پر اویسی کی پارٹی کے لیڈر کی پوسٹ، یوپی پولیس نے گرفتار کیا.
بجنور :(ایجنسی)
وارانسی کی گیان واپی مسجد میں مبینہ طور پر شیولنگ پائے جانے کے بعد متنازع بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اب بجنور پولیس نے اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی ایگزیکٹو ممبر عبدالسلام کو گیان واپی مسجد کیس میں فیس بک پر متنازع بیان پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا ہے۔
دراصل، عبدالسلام نے گیان واپی مسجد معاملے میں ایس پی کے مسلم ایم ایل اے کو لے کر ایک متنازع بیان پوسٹ کیا تھا، شکایت ملنے کے بعد، پولیس نے عبدالسلام کے بیان کو اکسانے والا سمجھتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا۔
آج تک کی رپورٹ کے مطابق بجنور کے کرت پور کے رہنے والے اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی ایگزیکٹو ممبر عبدالسلام نے گیان واپی مسجد کیس میں جاری عدالتی کارروائی کے بعد فیس بک پر ایک متنازع بیان پوسٹ کیا۔
اس میں لکھا تھا :’ ‘اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے 36 مسلم ایم ایل اے ہیں۔کسی نے نے بھی گیان واپی مسجد معاملے میں مخالفت درج نہیں کرائی کیونکہ غلاموں کو مخالفت درج کرانے کا کوئی حق نہیں ہوتا ۔‘
اس کا اسکرین شاٹ زبردست وائرل ہوا، جس کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے دیر شام اے آئی ایم آئی ایم لیڈر عبدالسلام کو گرفتار کرلیا اور فی الحال ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
اس وائرل بیان کو اشتعال انگیز بیان سمجھتے ہوئے پولیس نے اس لیڈر کے خلاف اشتعال انگیز پوسٹس بشمول آئی ٹی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور انہیں جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔