مسلمان نبی کریمؐ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ مرکز تحفظ اسلام ہند کے ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ سے مولانا عبد العلیم فاروقی کا خطاب۔
بنگلور، (پریس ریلیز): مرکز تحفظ اسلام ہند کے زیر اہتمام منعقد عظیم الشان آن لائن ہفت روزہ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی دوسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے مرکز تحفظ اسلام ہند کے سرپرست اور دارالعلوم دیوبند و ندوۃ العلماء لکھنؤ کے رکن شوریٰ جانشین امام اہل سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیائے فانی میں بے شمار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور آخیر میں آقائے دوعالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا۔ اور اللہ تعالیٰ کے بعد اس پوری کائنات میں سب سے بڑا مقام اگر کسی کا ہے تو وہ رسول اللہﷺ کا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ایک مسلمان اپنی جان سے زیادہ، اپنی اولاد، والدین اور دیگر اہل خانہ سے زیادہ آقائے دوعالمؐ سے محبت کرتا ہے اور انکی ذات پر ہر چیز اور ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار رہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہر دور میں اہل ایمان نے آپ ؐکی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپؐ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولؐ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ مولانا فاروقی نے فرمایا کہ ہر ایک مسلمان پر آپؐ کی ناموس کی حفاظت فرض ہے۔ اور جس ذات سے جتنی محبت ہوتی ہے اس کی عزت وناموس اس کے لیے اتنی ہی اہم ہوتی ہے، جو سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس کے ناموس کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کی ذات چوں کہ اہل ایمان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اس لیے محبت کے تقاضے کے عین مطابق حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین نے محبت رسولؐ اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوکر سرفروشی اور جاں سپاری اور فدائیت کے ایسے انمٹ نقوش قائم کیے ہیں جو قیامت تک کے لیے مشعل راہ ہیں۔ مسلم امۃ کے بچے بھی اپنے رسولؐ کے لیے جان نثاری کے جذبات سے لبریز تھے اور آج بھی ہیں۔ مولانا عبد العلیم فاروقی نے فرمایا کہ تاریخ شاہد ہیکہ حضورؐ کی ناموس کی حفاظت کے خاطر مسلمانوں نے ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ کیونکہ حضورؐ کی ناموس مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ عزیز ہے اور مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن حضورﷺ کی شان اقدس میں ذرہ برابر بھی گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ حضورؐ تمام مخلوق کیلئے باعث رحمت ہیں۔اور دنیا کے مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماء بھی آپؐ کا احترام کرتے ہیں۔لیکن بعض فرقہ پرست عناصر حضورؐ کی شان میں گستاخی کرکے ملک کے امن و امان اور آپسی بھائی چارہ کو خراب کرنے کوشش کررہے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی ذاتی مفادات کے خاطر پوری دنیا میں ہمارے ملک کا نام بدنام کررہے ہیں اور ملک کے حالات بھی خراب کررہے ہیں۔ لہٰذا ایسے گستاخان رسولؐ کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ یہ ہفت روزہ ”تحفظ ناموس رسالتؐ کانفرنس“ کی دوسری نشست مرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر محمد فرقان کی نگرانی اور مرکز کے رکن شوریٰ قاری عبد الرحمن الخبیر قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مرکز کے آرگنائزر حافظ محمد حیات خان کی تلاوت اور مرکز کے رکن شوریٰ حافظ محمد عمران کی نعتیہ کلام سے ہوا۔ کانفرنس میں مرکز کے اراکین شوریٰ مولانا ابو الحسن علی فاروقی اور مولانا محمد طاہر قاسمی خصوصی طور پر شریک تھے۔ اس موقع پر حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کی خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔ اختتام سے قبل مرکز کے ڈائریکٹر محمد فرقان نے حضرت والا اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر اجلاس حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔

سمیر چودھری۔