اگنی پتھ‘ ۔ آرہ سے لے کر گروگرام تک ’آگ کا راستہ‘
 
خان افسر قاسمی 
(ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت، منیجنگ ڈائریکٹر بصیرت میڈیا ہاؤس)
مرکزی حکومت کے ’اگنی پتھ‘ اسکیم کی ملک بھر میں مخالفت جاری ہے۔ اگنی پتھ تو ویسے ایک اسکیم ہے فوج میں شامل ہونے کی ، اس اسکیم کے تحت ہرسال تقریباً ۴۵ ہزار نوجوانوں کو فوج میں شامل کیاجائے گا، یہ بھرتیاں میرٹ اور میڈیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی، منتخب نوجوانوں کو چار سال کے لیے فوج میں خدمت کا موقع ملے گا، ان چار برسوں میں انہیں چھ مہینے کی ابتدائی ملٹری ٹریننگ بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہیں ۳۰ سے ۴۰ ہزار ماہانہ تنخواہ بھی ادا کی جائے گی،  علاوہ ازیں انہیں ۴۸ لاکھ کا بیمہ رقم بھی دی جائے گی۔ اگر خدمت کے دوران شہید یا معذور ہوگئے تو ۴۴ لاکھ روپئے تک کا معاوضہ بھی دیا جائے گا، چار سال پورے ہونے کے بعد ۲۵ فیصدی کو پھر سے فوج میں ۱۵ سال کے لیے مزید خدمات کے مواقع ملیں گے، چار سال بعد جو فوجی باہر ہوں گے انہیں ٹیکس فری تقریباً ۱۲ لاکھ روپئے ادا کیے جائیں گے۔ 
فوج میں داخلے کے بہت سے امیدوار اس اسکیم کے مخالف ہیں، وہ وقتی طور پر فوج میں شامل ہونے کےلیے نہیں؛ بلکہ طویل مدتی خدمات کے لیے انہوں نے درخواست دی تھی، جس کی وجہ سے وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں، اور مخالفت میں اترآئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چار سال کے بعد ۲۵ فیصد کو تو پھر سے شامل کرلیاجائے گا؛ لیکن ۷۵ فیصد کہاں جائیں گے؟....  اسی مخالفت میں بہارسے شروع ہونے والا یہ ہنگامہ یوپی، ہریانہ، ہماچل پردیش مدھیہ پردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں تک پہنچ گیا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ، آتشزدگی، پتھراؤ کیا جارہا ہے۔ پلول میں مظاہرین نے پولس کی گاڑی کو نذرآتش کردیا ہے۔ بہار کے کئی اضلاع میں دوسرے دن بھی مظاہرہ جاری ہے، جمعرات کو جہان آباد، بکسر اور نوادہ میں ٹرینیں روک دی گئی ہیں، چھپرہ اور مونگیر میں سڑک پر آگ لگا کر تانڈو مچایاجارہا ہے۔ اب تک کئی ٹرینیں منسوخ کردی گئی ہیں۔آرہ میدان جنگ میں تبدل ہے، ریلوے اسٹیشن پرپتھراؤ کیاگیا ہے اور ٹرینوں کو آگ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کیمور میں پولس پر پتھراؤ کیاگیا ہے جس کی زَد میں آکر کئی پولس کے جوان زخمی ہوگئے ہیں۔ نوادہ میں مظاہرین نے بی جے پی دفتر میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی ہے۔ 
 راجستھان کے سیکر میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ ۲۰ جون کو دہلی میں احتجاج کا اعلان کرچکے ہیں۔ یوپی کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے، اناؤ، بلند شہر، علی گڑھ اور غازی پور میں احتجاجات ہورہے ہیں۔ ’بھارت سر کار کے فیصلے سے ہم شرمندہ ہیں‘ جیسے نعرے لگ رہے ہیں۔ علی گڑھ میں بسوں میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات ہیں۔ گروگرام میں دہلی جے پور ہائی وے مکمل طور پر جام ہے۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار میں بیچ سڑک پر مظاہرین احتجاج کررہے ہیں۔ کل سے لے کر اب تک کروڑوں کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجاچکا ہے۔ 
ان سب ہنگاموں، توڑ پھوڑ، سرکاری املاک کو نقصان ، پولس پر پتھراؤ، آتشزدگی کے درمیان میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ مظاہرین کو فسادی نہ لکھیں اور نہ ہی انہیں تانڈو مچانے وا لا قرار دیں؛ کیونکہ وہ بیروزگار ہیں اور اپنے حق کےلیے آواز بلند کررہے ہیں۔ جمہوری ملک میں احتجاج کا سبھی کو حق حاصل ہے جس کی بنا پر وہ احتجاج کررہے ہیں۔ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ ان مظاہرین کی سی سی ٹی وی کے ذریعہ شناخت نہ کی جائے اور نہ ہی انہیں ان کے کپڑوں، ان کے نام اور ان کے رومال و گمچھے سے شناخت کی جائے، ان پر راسوکا نہ عائد کیا جائے اور نہ ہی ان کے پوسٹر و بینر سڑکوں پر آویزاں کرکے انہیں ہراساں کیاجائے۔ مقامی انتظامیہ سے بھی درخواست ہے کہ وہ بلڈوزر کا سہارا لے کر ان’ حق پرست ‘ مظاہرین کے گھروں کو اجاڑکر انہیں بے گھر نہ کرے.!!!