جسم فروشی پر عدالت کا فیصلہ____ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ۔
جسم فروشی پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ملک کے باشندوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، یہ فیصلہ ۲۶؍ مئی۲۰۲۲ء کو سپریم کورٹ کی سہ نفری بینچ نے جس میں جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس اے ایس لونیا شامل تھے، سنایا ہے، اس فیصلہ میں معزز جج صاحبان نے جسم فروشی کو ایک پیشہ تسلیم کیا ہے، اور طوائف بننے کو غیر قانونی نہیں قرار دیا ہے،بلکہ انہیں جنسی کارکن( سیکس ورکر) مان کر ان کے حقوق کے تحفظ اوران کو پریشان نہ کرنے کا فیصلہ سنایا ہے اس کے ساتھ چھ ہدایات بھی دی ہیں، عدالت نے صرف کوٹھا چلانے کو جرم مانا ہے، اگر کوئی اپنی مرضی سے اپنے گھر میں یا ہوٹل میں جسم فروشی کرتا یاکرتی ہے تو یہ قابل گرفت جرم نہیں ہے۔کیوں کہ دستور کی دفعہ ۲۱؍ کے تحت با عزت زندگی گذارنے کا اختیار اس کو ہے، عدالت کی نظر میں طوائف اور گیگولو(GIGOLO) سے جڑے لوگوں کو بھی با عزت زندگی گذارنے میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے،کیوں کہ سیکس ورکر بھی عزت اور تحفظ کے حق دار ہیں۔ 
 عدالت نے ذرائع ابلاغ کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ کوٹھوں پر چھاپہ مارتے وقت گرفتار(جنسی کارکن) سیکس ورکروں کی تصویریں شائع نہ کریں، پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طوائفوں سے با عزت طور پر پیش آئیں، اور ان کا جنسی استحصال نہ کریں، عدالت کو دفعہ ۱۴۲؍ کے تحت جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں، اس کے تحت یہ فیصلہ سنایا گیاہے۔
ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ ایک سروے کے مطابق پورے ہندوستان میں گیارہ سو کے قریب طوائفوں کی منڈی (ریڈ لائٹ ایریا) ہے جن میں اٹھائیس (۲۸) لاکھ عورتیں جنسی کارکن کے طور پر کام کر تی ہیں، گیلولو (مرد طوائف) کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
 اس سے قبل ایک فیصلے میں عدالت نے بیوی کی مرضی کے بغیر جنسی تعلق کوزنا بالجبر کے درجہ میں رکھ دیا تھا، یعنی کوئی شوہر اپنی بیوی سے بغیر اس کی مرضی کے جسمانی تعلق قائم نہیں کر سکتا۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کا یہ عمل قابل مواخذہ ہوگا۔
 بہت پہلے سے طوائفوں کا یہ مطالبہ تھا کہ جسم پر میری مرضی چلے گی، کسی دوسرے کی نہیں، اس کے لیے جلوس نکالے گیے تھے اور مظاہرے بھی ہوئے تھے،سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ان کے اس مطالبہ کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے برسوں سے چلی آرہی تہذیبی اقدار اور مذہبی فکر کو سخت نقصان پہونچا ہے۔
اس سلسلہ میں اسلام کی سوچ بہت واضح ہے کہ ہمارا جسم ہمارا نہیں اللہ کی طرف سے امانت ہے، اس لیے ہمارے جسم پر صرف اللہ کے بنائے ہوئے قوانین ہی نافذ ہوں گے، جنسی تعلق قائم کرنے کے جو اصول شریعت اسلامیہ نے ہمیں دیے ہیں، وہ مرد کی ضرورت اور عورت کی عفت وعصمت کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہیں، اس کے خلاف اٹھایا گیا کوئی قدم سماج کو غلاظت کے ڈھیر میں دھکیلنے جیسا ہوگا۔