گجرات فساد: آواز اٹھانے والوں کے خلاف ہی ایس آئی ٹی تشکیل۔
احمد آباد :(ایجنسی)
گجرات کے ڈی جی پی آشیش بھاٹیہ نے سابق ڈی جی پی آر بی سری کمار، سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ اورمعروف سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کے خلاف جعلسازی اور سازش کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ ایس آئی ٹی کی کمان ڈی آئی جی دیپن بھدرن کو دی گئی ہے۔ یہ تین لوگ آر بی سری کمار، سنجیو بھٹ اور تیستا سیتلواڑ وہی لوگ ہیں جنہوں نے 2002 کے گجرات فسادات کے حوالے سے سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی۔ جس وقت یہ فسادات ہوئے اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے۔ گودھرا واقعہ کے بعد ہونے والے یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے۔ گجرات کے امن و امان کی صورتحال پر انگلیاں اٹھیں۔ ستیہ ہندی کی رپورٹ کے مطابق الزام ہے کہ اس میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ کئی ہزار لوگ مارے گئے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
ہفتہ کو سماجی کارکن تیستا اور بی سری کمار کو اتوار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سنجیو بھٹ پہلے ہی جیل میں ہیں۔ تیستا کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے اگلے ہی دن گرفتار کر لیا گیاتھا۔
سابق ڈی جی پی سری کمار کو اتوار کو گاندھی نگر سے گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ تیستا کو ہفتہ کی شام کرائم برانچ میں مجرمانہ شکایت درج کرنے کے بعد ممبئی سے اٹھایا گیا تھا۔ دونوں کو اتوار کو ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں کرائم برانچ نے ان کے لئے 14 دنوں کے ریمانڈ کی مانگ کی ۔
انہیں عدالت میں پیش کرنے سے پہلے کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر چیتنیا مانڈلک نے میڈیا کو بتایا، پولیس سازش کے زاویے سے تحقیقات کرے گی۔ پولیس ان کے بینک ٹرانزیکشن اور دیگر دستاویزات کی جانچ کرے گی۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کرے گی کہ ان کے پیچھے کون تھا، کون انہیں قانونی کارروائی کے لیے اکسا رہا تھا۔
تیستا کو جب ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا گیا تو کوئی دستاویزات یا دیگر چیزیں ضبط یا برآمد نہیں کی گئیں۔ افسر نے کہا کہ اگر انہیں پولیس سے کوئی شکایت ہے تو وہ پیش ہونے پر مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت درج کرانے کا موقع ملے گا۔ تمام مرکزی ایجنسیاں پہلے ہی تیستا کی این جی او کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ تیستا چونکہ گجرات میں ہونے والی تمام ناانصافیوں کے معاملے کو اٹھا رہی ہیں، اس لیے وہ مسلسل حکومت کے نشانے پر ہیں۔
اہلکار نے کہا کہ پولیس مالیاتی لین دین کی جانچ کرے گی، آیا تیستا سیتلواڑ کی طرف سے چلائی جانے والی این جی او کو کوئی غیر ملکی فنڈنگ ​​ہوئی ہے اور یہ بھی جانچ کرے گی کہ آیا تیستا اور دو پولیس افسران کو اکسانے کے پیچھے کسی سیاستدان کا ہاتھ تھا۔ اگر تحقیقات کے دوران غیر ملکی فنڈنگ ​​کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے، تو ضرورت پڑنے پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کو بھی اس طرح کے لین دین کے بارے میں مطلع کیا جائے گا۔ تیستا کو جب احمد آباد کی میٹرو کورٹ لے جایا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا، میں مجرم نہیں ہوں۔
درحقیقت، سپریم کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اعلیٰ سطح پر ایک بڑی مجرمانہ سازش رچی گئی۔ لیکن وہ تمام الزامات تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہو گئے۔ عدالت نے کہا تھا، ’’ہمیں گجرات حکومت کے اس دعوے میں میرٹ نظر آتا ہے کہ سنجیو بھٹ، ہرین پانڈیا اور آر بی سری کمار کی گواہی صرف سنسنی خیزی اور مقدمات کو سیاسی رنگ دینے کے لیے تھی۔‘‘ حالانکہ سب کچھ جھوٹ سے بھرا ہوا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے اور جو لوگ اس سازش میں ملوث رہے ہیں ان کے خلاف اعلیٰ سطح پر کارروائی کی جائے۔ عدالت کے اس ریمارکس کی بنیاد پر گجرات پولیس اب متحرک ہوگئی ہے۔ بتا دیں کہ بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر ہرین پانڈیا کی پراسرار موت ہو گئی ہے۔ اس کے گھر والوں نے قتل کا الزام لگایا تھا۔