قاری ابوالحسن اعظمی کی 134 ویں کتاب کا رسم اجراء، قرطاس وقلم کے حوالہ سے قاری ابوالحسن کی خدمات قابل رشک: مولانا ندیم الواجدی۔
دیوبند: (سمیر چودھری)
دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ القراءاور رکن رابطہ عالم اسلامی مکة المکرمہ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی کی کتاب” چند اہم علمی اور دینی شخصیات “ کی رسم اجرا علماءکے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ قاری صاحب کی شخصیت محتاج تعارف نہیںہے۔انہوں نے قرطاس وقلم کے حوالہ سے جو خدمات انجام دی ہیں وہ سرزمین دیوبند امتیاز قرار پاتی ہیں۔ مولانا کی اس سے پہلے 133کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں اکثر کتابیں تحقیق اور علم وفضل کا بہترین عنوان ہیں ۔ قاری صاحب کا میدان گو تجوید وقرا ¿ت ہے مگر ان کے قلم نے مختلف علوم کا طواف کیا ہے ، ان کی سب کتابیں مقبول ہوئیں اور خاص طورپر قرا ¿ت وتجوید کے عنوان پر جو انہو ںنے کچھ لکھا وہ بہت کارآمد ، منفرد بڑا مضبوط کام ہے۔میں انہیں ان کی 134ویں کتاب پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ استاذ وقف دارالعلوم وممتازادیب مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ زندگی کی جتنی بہاریں قاری صاحب دیکھ چکے ہیں اس سے دگنی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، کم ازکم چالیس سال سے قاری صاحب کا قلم مصروف عمل ہے اور اس عرصہ میں انہوں نے دیوبند کے امتیاز اورا ختصاص کو باقی رکھنے میں بڑا بنیادی اور اہم رول ادا کیا ہے۔ کم لوگ ہیں جن کی شناخت اتنی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے ،پھر عمر کی اس منزل میں تو کام کرنے والے انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں ۔ ”چند اہم علمی اور دینی شخصیات“ کے سرسری مطالعہ کے بعد یہ بات گہرے نقوش کی صورت اختیار کرلیتی ہے کہ اللہ نے قاری صاحب کو شاید اسی لئے پیدا فرمایا تھا کہ وہ کاغذ اور قلم اور رشتوں کو مضبوط سے مضبوط کریں۔ ان کی یہ کتاب بھی شخصیات کو مختلف پہلوﺅں سے نمایاں کرنے میں کامیاب ہےں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب اپنے عنوان کا مکمل اظہار ہے اور خوبصورتی کے ساتھ اس عنوان کا احاطہ کرتی ہے۔ اس موقع پر حافظ عمر الٰہی ، قاری ارشاد، مولانا مقیم الدین، عبدالرحمن سیف وغیرہ موجود رہے۔