گرفتار نوجوانوں کو رہا کرمعمولات زندگی سے جڑنے کا موقع دے پریاگ راج پولیس، جمعیۃ علماء ہند کے اعلی سطحی وفد کی آئی جی زون پریاگ راج سے ملاقات، پرتشدد واقعہ کی مذمت اور پولیس کارروائی پر اظہار تشویش۔
الہ آباد:۔ برسراقتدار جماعت کی سابق ترجمان کے ذریعہ شان رسالت مآب ؐمیں کی گئی گستاخی کے خلاف اظہار ناراضگی کے دوران گزشتہ دنوں اٹالہ حلقہ میں رونما ہوئے پرتشدد واقعہ کے بعد گرفتار کئے گئے بے قصور وں کی رہائی کیلئے جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران مستقل سرگرم عمل ہیں۔ اسی ضمن میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی اور ریاستی جمعیۃ کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے مقامی جمعیۃ کے ذمہ داران کے ساتھ پریاگراج رینج کے آئی جی ڈاکٹر راکیش سنگھ سے ملاقات کر رونما ہوئے واقعہ پر قلبی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کسی بھی قسم کے تشدد اور ماحول خراب کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتی، آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر پر امن طور پراپنا احتجاج درج کرانے میں یقین رکھتی ہے۔ اٹالہ محلہ میں اس دن جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اب حالات کافی حد تک معمول پر لوٹ چکے ہیں ایسے میں کارروائی کے نام پر جو بے قصور نوجوان جیلوں میں بند کر دئے گئے اور اب تک ان کے خلاف کوئی ثبو ت نہیں ملا ہے تو ایسے معاملے میں آپ دخل دے کر ان کی رہائی کا انتظام کریں۔
جمعیۃ علماء کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ جو چیزیں ہوئیں وہ ہر طرح سے قابل مذمت ہے، اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی، ہماری آپ سے درخواست ہے کہ گرفتار شدگان ایسے لوگ جن کا سابقہ میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، ایسے لوگوں کو تنبیہ کے بعد رہا کرمعمولات زندگی سے جڑنے کاموقع دیں، مذکورہ واقعہ کو لے کر اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو گیا ہے تو اسے صلح سمجھوتہ سے حل کراکرایک مثال قائم کریں تاکہ عوام میں ایک اچھا پیغام جائے، لوگوں کا پولیس کو لے کر تأثر بدلے اور شبیہ میں کچھ سدھار ہو سکے۔ ساتھ ہی مولانا نے اٹالہ مسجد کے امام صاحب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو علاقے میں امن و امان کے داعیان میں سے ہیں، ان کی گرفتاری افسوسناک ہے۔
ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ گرفتار شدگان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی روز مرہ ضروریات سے وہاں گئی تھی، پولیس نے انہیں بھی ملزم بنادیا۔ نامعلوم ایف آئی آر کے نام پر بےجا گرفتاریاں اور گھروں سے بجلی کنکشن کاٹنا زیادتی پر مبنی کارروائی ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
آئی جی ڈاکٹر راکیش سنگھ نے اکابرین جمعیۃ کی بات بغور سننے کے بعد کہا کہ پولیس محکمہ پہلے دن سے ہی اس پر کام کر رہا ہے کہ کسی بے گناہ کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہم نے اب تک کئی ایسے لوگوں کو چھوڑا بھی ہے جو کسی وجہ سے موقع سے گرفتار کر لئے لیکن وہ وہاں کسی کام سے گئے اور پھنس گئے،شرپسندوں کے ساتھ شامل نہیں تھے اور جانچ میں بھی بے گناہ پائے گئے۔ انہوں نے کہا جہاں تک ان کی جانکاری ہے واقعہ میں علاقہ کا کوئی ایسا ذمہ دار شخص شامل نہیں تھا جس کی لوگ بات مانتے ہوں، اکثرنوجوان اور کم عمر لڑکے تھے جو نعرے بازی کرتے ہوئے مشتعل ہو کربراہ راست پولیس پر حملہ آور تھے، پولیس نے بھی کافی صبر کامظاہرہ کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا، لیکن جو کچھ بھی ہوا وہ اس میں کون لوگ ملوث تھے، ان کے کیا منصوبے تھے، یہ جانچ کا موضوع ہے اس پر مستقل کام چل رہا ہے۔ جو چیزیں نکل کر سامنے آئیں گی، ہم اسے آپ کے علم میں بھی لانے کی کوشش کریں گے۔
ملاقات کے دوران مولانا حکیم الدین قاسمی اور مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کے ساتھ مفتی جمیل الرحمن قاسمی پرتاپگڑھ، مولانا محمد فاروق پرتاپگڑھ، مولانا حبیب الرحمن مئوائمہ، مولانا محمد مرشد قاسمی کوشامبی، قاری عبدالمعید چودھری کانپور، مفتی اظہار مکرم قاسمی کانپور اور محمد سعد موجود تھے۔
واضح ہو کہ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی ہائی کورٹ سینئر وکلاء سے ملاقات کرکے گرفتار شدگان کی رہائی کیلئے وکلاء کا پینل بنانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

سمیر چودھری۔