دیوبند میں این آئی اے کی بڑی کارروائی، مدرسہ میں زیر تعلیم روہنگیا پناہ گزیں طالبعلم کو حراست میں لیا، عدالت میں پیش کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئی ٹیم۔
دیوبند:(سمیر چودھری)
این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی ٹیم نے ایک روہنگیا پناہ گزین کو حراست میں لیا ہے جو دیوبند میں رہ کر ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ٹیم زیر حراست طالب علم کو اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ تاہم مقامی حکام اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دے رہے ہیں کہ مذکورہ طالب علم کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے۔
بدھ کو دیوبند پہنچی این آئی اے کی ٹیم نے شہر کے ایک مدرمیں چھاپہ مارتے ہوئے ایک روہنگیا پناہ گزین طالب علم کو حراست میں لیا جو ششم عربی میں پڑھ رہا تھا۔ طالب علم کا نام مجیب اللہ ولد حبیب اللہ بتایا جا رہا ہے جس کی عمر تقریباً 19 سال ہے۔ این آئی اے نے جس طالب علم کو حراست میں لیا ہے وہ میانمار کا رہنے والا بتایا جاتا ہے۔ جو گزشتہ ایک ماہ سے دیوبند میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ طالب علم کے پاس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ آر سی) کے دفتر سے جاری کردہ ایک ویلڈ کارڈ بھی ہے۔ 
بتایا جا رہا ہے کہ حراست میں لیا گیا طالب علم شہر کے محلہ محل میں کرائے کے کمرے میں رہتا تھا۔ این آئی اے کی ٹیم نے وہاں پہنچ کر تفتیش کی۔ این آئی اے حراست میں لیے گئے طالب علم کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ مقامی حکام اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دے رہے ہیں کہ طالب علم کو این آئی اے نے کیوں حراست میں لیا ہے اور اس سلسلے میں اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
دیوبند سے روہنگیا پناہ گزین کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے این آئی اے کی ٹیم انتہائی خفیہ طور پر پہنچی تھی۔ یہ ٹیم اتراکھنڈ نمبر والی انووا کار میں آئی تھی۔ مقامی حکام بھی اس حوالے سے کوئی معلومات دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ٹیم حراست میں لیے گئے طالب علم کو دیوبند کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے گئی ہے۔