’کپڑوں سے پہچان': سی اے اے معاملہ میں سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد کانپورفساد کے مبینہ ملزموں کے بھی جاری کیے گئے پوسٹر۔
کانپور :(ایجنسی)
کانپور پولیس نے 3 جون کو ہوئے فسادمیں ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر فسادیوں کی تصاویر وائرل کی ہیں۔ اس میں پولیس نے نمبر جاری کرکے ان لوگوں کے بارے میں اطلاع دینے کو کہا ہے۔ عنقریب یہ پوسٹرز شہر کی سڑکوں پر بھی لگائے جائیں گے۔ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے پوسٹر میں 40 لوگوں کی تصاویر ہیں، جو اس فساد میں ملوث تھے۔
کانپور تشدد کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجیو تیاگی ایس آئی ٹی کی نگرانی کریں گے، جب کہ اے ٹی ایس کو بھی جانچ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانپور تشدد کی جانچ بھی پی ایف آئی کے زاویے سے ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں سماج وادی پارٹی سے جڑے نظام قریشی کا نام بھی سامنے آرہا ہے، لیکن انہیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ پٹرول بوتل میں لایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی کانپور تشدد میں اونچی عمارتوں سے پتھر برسائے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
پولیس کمشنر وجے سنگھ مینا نے کہا کہ واقعہ کی صحیح جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ آیا ان کا PFI (پاپولر فرنٹ آف انڈیا) سے کوئی تعلق ہے، جنہوں نےاسی دن منی پور اور مغربی بنگال کو بند کرنے کی کال دی تھی۔مینا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی نگرانی ڈپٹی کمشنر آف پولیس (جنوبی) سنجیو تیاگی کریں گے، جن کی مدد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس (مغربی) برجیش سریواستو، اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (انور گنج) اکمل خاں اور کرنل گنج کے تریپوراری پانڈے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ایک پولیس انسپکٹر اور دو سب انسپکٹر ان کی مدد کریں گے۔