توہین رسالت معاملہ: کویت کی سپر مارکیٹ نے ہندوستانی مصنوعات کو الماریوں سے ہٹایا۔
کویت سٹی: (ایجنسی)
پیغمبر اسلام کے بارے میں بی جے پی کے دو لیڈروں کے ریمارکس پر خلیجی ممالک کی ناراضگی کا معاملہ فی الوقت تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ کویت میں ایک سپر مارکیٹ نے اپنی الماریوں سے ہندوستانی مصنوعات ہٹا دی ہیں۔ پیغمبر اسلام ؐ پر بی جے پی کی ایک ترجمان کے تبصرے کو لے کر ہندوستانی سفیر کو طلب کرنے والا ایران ، مشرق وسطیٰ کا نیا ملک بن گیا ہے۔ تبصروں کو اسلام مخالف قرار دیتے ہوئے العردیہ کوآپریٹو سوسائٹی کے اسٹورز نے ہندوستانی چائے اور دیگر مصنوعات ٹرالیوں میں جمع کرادی ہیں۔ سعودی عرب، قطر اور خطے کے دیگر ممالک کے علاوہ مصر کی الازہر یونیورسٹی نے بی جے پی کے ترجمان کے بیان پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ بی جے پی نے کارروائی کرتے ہوئے ترجمان نوپور شرما کو معطل کر دیا ہے۔ کویت سٹی کے باہر سپر مارکیٹوں میں چاول کی بوریوں، مسالوں اور مرچوں کی الماریوں کو پلاسٹک کی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ عربی زبان میں لکھے پیغام میں پڑھا جاسکتا ہے۔ ’’ ہم نے ہندوستانی مصنوعات کو ہٹا دیا ہے ۔‘‘

اسٹور کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ناصر المطیری نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’بطور کویتی مسلمان، ہم پیغمبر اسلام کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔‘اس سلسلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کمپنی کی سطح پر بائیکاٹ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کے تبصرہ کو لے کر مسلمانوں میں کافی ناراضگی ہے۔ پچھلے ہفتے، ٹی وی پر نوپور شرما کے اس تبصرے کو اتر پردیش میں ہونے والے مظاہروں کی وجہ قرار دیا گیا۔ مظاہرے میں ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
حکومت ہند نے ان تبصروں کو ’نامناسب‘ اور ’تنگ ذہن‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان ارندم باغچی نے کہا، ’نئی دہلی تمام مذاہب کی سب سے زیادہ احترام کرتی ہے۔‘ انہوں نے کہا، ’’کچھ افراد کی جانب سے ایک قابل احترام شخصیت کے خلاف جارحانہ ٹویٹس اور نامناسب ریمارکس کیے گئے۔ یہ تبصرے کسی بھی طرح سے حکومت ہند کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ کمیٹی کے ذریعہ ان لوگوں کے خلاف پہلے ہی سخت کارروائی کی جاچکی ہے ۔