توہین رسالت کے سلسلے میں ملک گیر مظاہروں پر جمعیۃ علماء ہند کا ردِ عمل، گرفتار ہونے والے مظاہرین کے لیے ہر سطح پر قانونی کارروائی کی کوشش ہورہی ہے : مولانا حکیم الدین قاسمی۔
 نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ملک گیر مظاہروں پر پولس تشدد او رحالات پر قابو پانے میں نااہلی نے جلتی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہرگز برداشت نہیں کی جاسکتی، اس کے خلاف مظاہرہ کرنا مسلمانوں اور انصاف پسند اہل وطن کا آئینی و جمہوری حق ہے جسے روکنے کے لیے اندھا دھندگرفتاری، پولس فائرنگ اور بلڈوزر کا استعمال کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے شرمناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آپ کسی غیر ملکی دشمنوں کا مقابلہ نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ سب اسی ملک کے شہری ہیں ۔ایسا بہت ممکن ہو تاہے کہ اس طرح کے مظاہروں میں شرپسند عناصر شامل ہوجاتے ہیں اور ان کی حرکتوں کی وجہ سے پرامن شہریوں کو سزا بھگتنی پڑتی ہے ، اس لیے ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں اور پرامن طریقہ اختیار کریں۔
انھوں نے کہا کہ جو مظاہرین گرفتار ہو رہے ہیں ان کے لیے ہر سطح پر قانونی کارروائی کی کوشش ہورہی ہے ، اس سلسلے میں جمعیۃ کے کارکنان متعلقہ افسران ، انتظامیہ اور سیاسی قائدین کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے اس سے قبل کانپور کا دورہ کرکے وہاں کے حالات کا جائزہ لیا تھا، اسی طرح جلد ہی دوسری جگہوں کا دورہ کیا جائے گا اور انصاف کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی جائیگی۔
مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ جمعیہ علماء ہند ،رانچی میں مظاہرہ کے دوران شہید ہونے والے مدثر اور ساحل کی موت پر اپنے قلق کا اظہار کرتے ہوئے جھارکھنڈ سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کی مکمل جوڈیشیل انکوائری کرائی جائے ،خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے نیز مرنے والے کے خاندان کو معقول معاوضہ دیا جائے۔

سمیر چودھری۔