کانپور تشدد: قاضی شہرکا بڑادعویٰ، ’نمازیوں پر پتھر برسائے گئے تب تشدد بھڑکا‘۔ ساکشی مہاراج نے لکھی بھڑکاؤ پوسٹ۔
کانپور :(ایجنسی)
اتر پردیش کے کانپور میں نماز جمعہ کے بعد بھڑکےتشدد کے بعد کانپور میں 36 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں تین ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہیں۔ کانپور میں اس ہنگامہ آرائی سے پہلے پوسٹر بھی لگائے گئے تھے جن میں لوگوں کو متحد ہونے کو کہا گیا تھا، حالانکہ انتظامیہ نے معاملے پر پوری طرح سے قابو پالیا ہے لیکن اس دوران اناؤ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کے فیس بک پوسٹ نے اسے سیاسی شکل دے دی ہے۔ بی جے پی ایم پی ساکشی جی نے یہ پوسٹ پہلے بھی کی تھی، آج انہوں نے دوبارہ یہ پوسٹ کیا ہے اور ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اب ہتھیار اٹھا لیں۔

جن ستہ آن لائن کے مطابق ساکشی مہاراج نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا، ’حال ہی میں میں نے اپنی فیس بک وال پر لکھا تھا کہ ہندوؤں ہوشیار ہو جاؤ، اپنی حفاظت کے لیے تیر کمان رکھیں، ضروری چیزیںاپنے پاس رکھیں جس پر بہت سے لوگوں نے میری بات کی مخالفت کی، آپ نے کل دیکھ لیا نا کانپور میں کیا ہوا اور کون لوگ ہیں؟جو جمعہ کی نماز کے بعد پتھربرسانا شروع کردیایہاں تک پولیس نے بھی اپنے آپ کو ان کے پتھروں سے نہیں بچا پائی ۔ پولیس کے کئی لوگ زخمی ہوئےہیں ۔ ہندوؤں ابھی بھی ایک ہو جاؤ کوئی آپ کی لڑائی لڑنے نہیں آئے گا۔ آپ کو خود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی ۔ ہوشیار ہو جائیے ۔ ‘‘

ساکشی مہاراج نے مزید لکھا، ’صحیفہ اور ہتھیار دونوں کا استعمال کرنا سیکھیں اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے دفاع کے مفید آلات ضرور رکھیں، یہ مخصوص لوگ آپ کو کبھی بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دے گا اور پرامن طور پر تبھی زندہ رہے گا جب آپ اینٹوں کا استعمال کریں گے۔ آپ سیکھیں گے۔ پتھر سے جواب دینا – شکریہ کہ مودی یوگی اور امیت شاہ جی جیسے لوگ ملک میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں، اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ملک کا کیا حال ہوتا اور اتر پردیش کا کیا ہوتا،بھگوان بھروسے ہوتا جے شری رام میں آپ سب کی لڑائی آخری سانس تک لڑتارہوں گا جے ہند جے بھارت‘
کانپور کے قاضی نے بتایا تشدد کا پورامعاملہ
کانپور تشدد پر جب میڈیا نے کانپور شہر کے قاضی عبدالقدوس سے بات کی تو انہوں نے کانپور تشدد کی ساری بات بتائی۔ عبدالقدوس نے کہا، ‘کل جو بند کی کال دی گئی وہ کچھ لوگوں نے کی تھی۔ کچھ لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کی تھی جس کی وجہ سے یہ بند بلایا گیا۔ نوپور شرما کی طرف سے اللہ کے بارے میں جو ریمارکس آئے ہیں وہ ان کی ملک میں مخالفت کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے، جب اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں تو کوئی اسے برداشت نہیں کر پاتا، اس کی وجہ سے تمام چیزیں ناقابل برداشت ہیں۔ جب اس معاملے کو لے کر بند کا اعلان کیا گیا تو کسی نے نہیں دیکھا کہ کس نے اس کا اعلان کیا۔ چونکہ یہ اللہ کی شان کا معاملہ تھا نہ کہ کسی شخصیت کا، اس لیے کسی نے جاننے کی کوشش تک نہیں کی کہ کس نے یہ اعلان کیا ہے۔ لوگ دکانیں بند کرنے تک معاملہ ٹھیک تھا لیکن جب دو مساجد سے نماز پڑھ کر واپس آنے والے لوگوں پر اچانک پتھراؤ شروع ہو گیا تو معاملہ وہاں سے بگڑ گیا۔

فریقین کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے: قاضی
کانپور کے قاضی عبدالقدوس نے مزید کہا، ‘جب وہاں سے پتھراؤ ہوا تو یہاں سے بھی پتھراؤ شروع ہوا۔ اس کے بعد پولیس بھی اس میں الجھ گئی اور لوگوں کو مداخلت کرنا شروع کر دی، جس کی وجہ سے معاملات بڑھ گئے لیکن انتظامیہ نے آج سارا معاملہ قابو میں کر لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اس معاملے میں غلط لوگوں کو گرفتار نے کرے۔ تاہم، امید ہے کیونکہ کانپور انتظامیہ نے ہمیشہ صحیح حقائق پر کام کیا ہے اور اس بات کا خیال رکھا ہے کہ جو لوگ اس میں ملوث نہیں ہیں انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔ ہمیں امید ہے کہ دونوں فریقین کے مجرم پکڑے جائیں گے۔
شہر قاضی قدوس کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام مجرم نہیں، انتظامیہ سے بات کروں گا کہ جو لوگ بے گناہ ہیں انہیں ہراساں نہ کیا جائے جب کہ جو واقعی قصوروار ہیں انہیں نہ بخشا جائے۔ ہم نے جہاں بھی لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی، خصوصاً مسلمانوں کے علاقوں میں، ہر جگہ ہماری بات مان لی گئی۔ بچوں میں اب بھی اتنی خوبصورتی ہے کہ ہم کھڑے ہو جائیں تو وہ ہماری مخالفت نہیں کرتے۔ چاہے اس وقت بچوں کو ہمارے سامنے آنا برا لگے یا وہ اندر سے ناراض ہوں لیکن وہ عزت سے واپس چلے گئے۔