سپریم کورٹ کا امتحان--- ودود ساجد۔
(روزنامہ انقلاب میں شائع ہفتہ وار کالم رد عمل) 
گزشتہ 16 جون کو یوگی حکومت کے بلڈوزر ’انصاف‘ کے خلاف جمعیت علماء کی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس اے ایس بوپنا نے جو اہم اور دلچسپ بات کہی تھی قدرت نے ملک بھر میں تازہ صورتحال کی شکل میں اس کی تصدیق کا ایک اور موقع عطا کردیا ہے۔
جمعیت علماء نے اس عرضی میں سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ اہانت رسول سے دلبرداشتہ مظاہرین کے گھروں کو غیر قانونی طور پر بلڈوزر سے ڈھانے سے یوپی حکومت کو روکا جائے اور خاطی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔ یوپی حکومت نے اس عرضی پر سخت اعتراض کیا اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت نہ کرے اور یوپی حکومت کو اپنا کام کرنے دے۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ یوپی حکومت قانون کے مطابق ہی بلڈوزر چلا رہی ہے۔لیکن سپریم کورٹ کی تعطیلاتی بنچ نے یوپی حکومت کے اعتراض کا کوئی اثر قبول نہیں کیا۔ قانون کی نظر میں یوپی حکومت کی یہ پہلی شکست ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس بوپنا نے وقفہ وقفہ سے کئی باتیں کہیں۔ان کی جس اہم اور دلچسپ بات کی طرف ہم نے شروع میں اشارہ کیا وہ یہ تھی کہ ’ہم بھی (ٹی وی یا اخبار میں ہر روز) دیکھتے رہتے ہیں‘۔ یقین ہے کہ پچھلے چند روز سے پورے ملک میں جو کچھ ہورہا ہے جسٹس بوپنا اسے بھی دیکھ رہے ہوں گے۔ یہاں جسٹس بوپنا سے مراد مجموعی طور پر سپریم کورٹ ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک کے اگر چند اہم مقدمات کا مطالعہ کیا جائے توبہت سے ججوں نے مختلف اوقات اور مختلف الفاظ میں یہی بات متعدد مرتبہ دوہرائی ہے۔۔ 

جسٹس بوپنا نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہم (تمام جج) بھی اسی معاشرہ کا حصہ ہیں‘ ہم بھی دیکھتے رہتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے اور ہم نے بھی بعض اوقات کچھ تاثر قائم کیا ہے‘ اگر کسی کی شکایت کے معاملہ میں یہ عدالت مدد کو نہیں آتی تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔‘

  ماہرین قانون بتائیں گے کہ جسٹس بوپنا کے اتنا کہنے کی کیا اہمیت ہے اور ان کے اتنے کہنے میں کتنا ’ان کہا‘ پوشیدہ ہے۔ قانون کی باریکیاں اور پیچیدگیاں ایسی ہیں کہ ہر شخص اپنے علم اور فہم کے اعتبار سے ان میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ عدالتیں ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔ چند برسوں سے جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے اس سے یہ تاثر لینا غلط بھی نہیں ہے۔

ایک عام آدمی کو‘ اور خاص طور پر ان کو جو حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں‘ عدالتوں سے بجا طور پر فوری اور اچوک انصاف کی توقع ہوتی ہے۔لیکن قانون کی پیچیدگیاں انہیں مایوس کردیتی ہیں۔ہندوستان میں انصاف کا عمل ’توازن کے عمل‘ سے عبارت ہے۔عدالتیں اسی ’توازن کے عمل‘ کی اسیر ہیں۔ مظلوم کی خواہش ظالم کی فوری گرفت کے ارد گرد گھومتی ہے لیکن عدالتیں متاثرین کی خواہشات سے بے نیاز ہوتی ہیں۔آئین نے دائرہ اختیارات وعمل کی جو تقسیم کردی ہے اس نے ظلم پسند حکمرانوں کو خود سر اور آزاد چھوڑ دیا ہے۔
 
جمعیت علماء نے یہ عرضی دراصل پہلے سے دائر اپنے اس مقدمے میں‘ اضافی طور پر لگائی تھی جو دہلی کے جہانگیر پوری میں کی جانے والی انہدامی کارروائی سے متعلق چل رہا ہے۔ جہانگیر پوری میں بھی شوبھا یاترا کے موقع پر شرپسندوں کے تشدد کے بعد دہلی پولیس‘ ڈی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن نے بلڈوزر سے انہدامی کارروائی کی تھی۔ اس کارروائی میں ایک مسجد کے آگے کے حصہ کو بھی منہدم کیا گیا تھا۔یہ کارروائی امتیازی تھی۔کیونکہ اسی مسجد کے قریب ایک مندر بھی ہے اورکہاجاتا ہے کہ مندر والوں نے بھی آگے بڑھاکر تعمیر کر رکھی تھی۔بعد میں مندر والوں نے اضافی تعمیرات کو خود ہٹالیا تھا۔سپریم کورٹ نے جہانگیر پوری میں جاری کارروائی پر فی الفورصورتحال کو جوں کا توں رکھنے کا حکم دیدیا تھا‘ سپریم کورٹ نے اسی روز دوبارہ سماعت کرتے ہوئے ’اسٹیٹس کو‘ کے حکم کے باوجود انہدامی کارروائی کے جاری رہنے پرناگواری کا بھی اظہار کیا تھا۔

جمعیت علماء کے وکلاء نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی پٹیشن میں ایک عرضی داخل کرکے اچھا کیا۔نئی پٹیشن پر آج کل فوری سماعت ممکن نہیں تھی۔اس وقت سپریم کورٹ میں تعطیلاتی بنچ ہی لگ رہی ہے۔عرضی میں کہا گیا کہ یوپی حکومت نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ سپریم کورٹ کے جہانگیر پوری والے حکم کا اطلاق اترپردیش پر نہیں ہوا تمام ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پریاگ راج (الہ آباد) میں مظاہرین کے گھروں پر بلڈوزر چلادئے ہیں۔

جسٹس بوپنا کا پہلا ردعمل یہ تھا: ہم اس سے آگاہ ہیں کہ انہدامی کارروائی نوٹس جاری کئے بغیر نہیں ہوسکتی۔جمعیت کے وکیل سی یو سنگھ نے کہا کہ ’یوپی اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27کے تحت جائیداد کے مالک کو 15دنوں سے کم کا نوٹس نہیں دیا جائے گا۔‘اس پر یوپی حکومت کے وکیل تشار مہتا نے ایک قانونی نکتہ اٹھاکر سپریم کورٹ کو اس سماعت سے روکنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ ’چونکہ قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے اس لئے متاثرہ فریق کو سامنے آنا چاہئے۔‘یعنی جمعیت علماء کا اس مقدمہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔قانون کی زبان میں اسے Locus standie کہتے ہیں۔

تشار مہتا نے جمعیت کے کردار اور وقار پر بھی سوال اٹھایا اور اس مفہوم کی بات کہی کہ جمعیت علماء ہر مسئلہ میں ٹانگ اڑاتی ہے۔یہ نکتہ ایسا تھا کہ سپریم کورٹ اس پر جمعیت کی عرضی کو خارج بھی کرسکتی تھی۔یا کم سے کم یہ کہہ سکتی تھی کہ متاثرہ فریقوں کو بھی اس معاملہ میں شکایت کنندہ یا کم سے کم فریق کے طور پر سامنے آنا چاہئے۔لیکن جسٹس بوپنا نے جواب دیا: ’ہمیں اس حقیقت سے بھی آگاہ رہنا چاہئے کہ جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرنے سے قاصر ہوں۔‘اس پر یوپی حکومت کے وکیل نے کہا کہ جائیداد قیمتی ہے لہذا ایسا نہیں ہے کہ متاثرہ فریق عدالت سے رجوع نہ کرسکیں۔

اس پر بھی جب بنچ نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو یوپی حکومت نے جواب (حلف نامہ) داخل کرنے کیلئے تین دن کا وقت مانگاجوببنچ نے دیدیا۔ لیکن جسٹس بوپنا نے اس موقع پر یوپی حکومت سے یہ سوال بھی کرلیا: ’اس دوران ہم تحفظ کو کیسے یقینی بنائیں؟ یہ ہمارا فریضہ ہے۔اس عرصہ میں ہمیں تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے‘اگر یہ عدالت مدد کو نہیں آتی تو یہ مناسب نہیں ہوگا‘ یہ (ہمارا طرز عمل) منصفانہ نظر آنا چاہئے۔‘

جسٹس بوپنا کے ان تبصروں سے ایک بات طے ہوگئی ہے کہ اب حکومت یہ بہانہ بناکر ایسی کسی عرضی کو خارج نہیں کراسکتی کہ متاثرہ فریق نے عدالت سے رجوع نہیں کیاہے۔اس سے جمعیت علماء کو بھی معتبریت ملی ہے کہ وہ متاثرین اور مظلوموں کے مفاد کی محافظ کے طور پر عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوا ہے کہ حکومت کے وکلاء مظلوموں کے تئیں جمعیت کی سرگرم فعالیت سے پریشان ہیں۔

اب 20 جون کی شام تک یوپی حکومت کو حلف نامہ داخل کرکے یہ بتانا ہے کہ اس نے الہ آباد میں سماجی رضا کار جاوید محمد پمپ کے شاندار مکان کو بلدیاتی قانون اور ضابطوں کے مطابق منہدم کیا ہے یا یوں ہی سیاسی انتقام اورفرقہ وارانہ تعصب کے تحت ڈھادیا ہے۔ 21جون کو سپریم کورٹ کی مزید کارروائی اسی جواب کی بنیاد پر ہوگی۔ سپریم کورٹ کے کئی سابق جج اور وکلاء اس انہدام کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔عالمی سطح پر اس کی مذمت کی جارہی ہے۔عرب ممالک کے عوام بھی اس پر رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔خود ہندوستان میں بہت سے عوامی حلقے اس پر بے چینی کا اظہار کرچکے ہیں۔
 
گزشتہ 10 جون کو ملک کے بعض حصوں میں نماز جمعہ کے بعد غیر منظم طور پر مسلمانوں نے اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہرے کئے تھے۔حالانکہ اس سے ایک روز پہلے بیشتر مسلم تنظیموں اور علماء نے وضاحتیں جاری کرکے کہا تھا کہ ان کی طرف سے مظاہروں کا کوئی اعلان یا منصوبہ نہیں ہے۔لیکن لوگوں کے وہاٹس ایپ پر اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع پر یہی بات گشت کرتی رہی کہ فلاں فلاں تنظیموں نے جمعہ کی نماز کے بعداحتجاج کا اعلان کیا ہے۔یہاں دہلی میں بھی شاہجہانی جامع مسجد کے باہر لوگوں نے مظاہرہ کیا۔اس پر احمد بخاری نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس مظاہرہ سے خود کو الگ کرلیا۔اس مظاہرہ کے نتیجہ میں یوپی میں مسلمانوں پر جو افتاد آئی وہ بہت تکلیف دہ‘ بھیانک اور ناقابل تصور ہے۔

اس کے بعد 17جون کے جمعہ سے پہلے بہت سے ممتاز علماء اور مسلمانوں کی مختلف جماعتوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پُر سکون طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں اور کسی مظاہرہ میں حصہ نہ لیں۔میرا خیال ہے کہ حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ مسلمان ایسے کسی غیر منظم مظاہرے میں حصہ نہ لیں۔خدا کا شکر ہے کہ پورے ملک کے مسلمانوں نے علماء اور جماعتوں کی اپیلوں پر کان دھرا اور کہیں کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔۔ 

اس صورتحال سے اطمینان ہوا۔مسلمانوں کیلئے آج بھی‘جب تخت شاہی پر ظالم بیٹھے ہیں‘حکمت سے بھر پور لایحہ عمل کی ترتیب ہی فائدہ مند ہے اور کل بھی یہی طرز عمل مفید ہوگا جب یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔

تینوں افواج میں بھرتی کیلئے مرکزی حکومت کے ذریعہ نئی اسکیم ’اگنی پتھ‘ کے اعلان کے بعد ملک بھر میں جو صورتحال رونما ہوئی ہے وہ عدیم المثال ہے۔ یہ مظاہرے غیر منظم ہوکر بھی اتنے منظم ہیں کہ مظاہرین دیکھتے ہی دیکھتے ٹریک پر کھڑی ٹرینوں کو پھونک ڈالتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے اب تک صرف بہارمیں 50 بوگیوں اور سات انجنوں کو آگ لگادی ہے۔بہار میں صرف دانا پور ریلوے ڈویزن کو 216 کروڑ روپیے کا نقصان ہوچکا ہے۔مختلف اضلاع میں بی جے پی کے دفاتر پر بھی حملے ہوئے ہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ملک میں کتنا بڑا نقصان ہوا ہوگا۔بہار کے بعد یوپی کے بھی کئی شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ایک ہفتہ پہلے یوپی کے وزیر اعلی نے مظاہرہ کرنے والوں کو فسادی قرار دے کر ان کے گھروں کو بلڈوزروں سے ڈھانے کے احکامات دئے تھے۔لیکن اب ایک ہفتہ بعد دوسرے قسم کے مظاہرین کو وہ ملک کے گمراہ نوجوان قرار دے رہے ہیں۔جن افسروں نے جوش میں آکر بلڈوزروں سے مسلم مظاہرین کے مکان ڈھائے تھے اب کہیں وہ نظر نہیں آرہے ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس صورتحال کا بھی مشاہدہ کر رہی ہوگی۔ہمیں امید ہے کہ 21جون کو جب یوپی حکومت کا حلف نامہ زیر غور آئے گا تو سپریم کورٹ میں بجا طور پر یوپی حکومت سے یہ سوال بھی کیا جائے گا کہ اگر 10جون کو ’قانون کو ہاتھ میں لینے والوں‘ کے خلاف بلڈوزر چل سکتا ہے تو 17جون کو پرتشدد مظاہرے کرنے والوں کے خلاف بھی کیا کوئی بلڈوزر چلا؟ سپریم کورٹ یہ سوال کرے یا نہ کرے یہ تو ثابت ہوہی گیا ہے کہ یوپی حکومت مسلم مظاہرین کے خلاف کارروائی عصبیت اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر کر رہی ہے۔سپریم کورٹ کو اس سلسلہ میں کسی دلیل کی بھی ضرورت نہیں ہے۔سچی بات یہ ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا امتحان ہے۔