دہشت بنا بلڈوزر: حسام صدیقی
لیڈ اسٹوری
جدید مرکز، لکھنؤ
مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵ جون، ۲۰۲۲۔
لکھنؤ: یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کا بلڈوزر اترپردیش میں خصوصاً مسلمانوں میں دہشت کی علامت بن گیا ہے۔ یوگی کی گزشتہ سرکار کے دوران بلڈوزر کا استعمال ان لوگوں پر ہوا تھا جو مافیا سرغنہ اور پیشہ ور کریمنل کہلاتے تھے۔ دوسر ےدور کی یوگی حکومت کا بلڈوزر مسلمانوں کے خلاف اس طرح استعمال ہو رہا ہے جیسے مرغی چوری کرنے والے کسی شخص کے خلاف قتل کی دفعات میں مقدمہ چلا کر اسے پھانسی تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹائر چیف جسٹس گووند ماتھر نے بلڈوزر کاروائی کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور اسے پوری طرح غیر قانونی قرار دیا۔ پھر چودہ جون کو سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹوں کے تقریباً ایک درجن ریٹائر جسٹسوں، چیف جسٹسوں اور سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اترپردیش میں بلڈوزر کی کارروائی پر فوراً دخل دینے کی اپیل کی۔خبر لکھے جانے تک سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی ایکشن سامنےنہیں آیا تھا۔ اترپردیش میں یہ کاروائیاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے مبینہ بلوائیوں، پتھر بازوں اور مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کی ہدایت کے بعد کئی اضلاع میں شروع ہوئی۔ سخت کارروائی کی ہدایت دیتے وقت وزیراعلیٰ کو شاید یہ خیال نہیں رہا کہ پولیس کو کھلی چھوٹ دینے سے اکثر پولیس بے لگام ہو جاتی ہے ۔ ایک بار کانگریس کی اترپردیش سرکار نے سکھ دہشت گردی کے خلاف پولیس کو اسی طرح کی کھلی چھوٹ دی تھی تو پیلی بھیت، بریلی میں درجنوں بے گناہ سکھوں کو قتل کر دیاگیا تھا۔قتل کرنے میں شامل تیس سے زائد پولیس والے اب عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
دس جون کو سہارنپور سے بلیا تک کئی شہروں میں جمعہ کی نماز کے بعد پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما کے خلاف مظاہرے ہوئے، اس سے قبل تین جون کو جمعہ کے بعد ہی کانپور میں مظاہرہ ہوا تھا۔ کانپور اور پریاگ راج میں مظاہرہ کرنے والوں نے پتھراؤکیا، جس سے بات اور بگڑ گئی لیکن سہارن پور میں پولیس نے جو کیا پھر الہ آباد میں اسی طرح کی کاروائی ہوئی اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔پہلے سہارن پور میں گیارہ جون کو ہی کوجن نوجوانوں کو حراست میں لیاتھا پولیس اسٹیشن میں پولیس والوں نےایک کمرے میں بند کرکے ان پر بری طرح سے لاٹھیاں برسائیں۔ وہ سب چیخ رہے تھے کوئی کہہ رہاتھا کہ صاحب مت مارئیے ، میرا ہاتھ ٹو ٹ گیا ہے، تو کوئی کہہ رہا تھا میرا پیر ٹوٹ گیا ہے لیکن لاٹھیاں نہیں رکیں۔ پولیس نے اس کا ویڈیو بھی بنوایا جو بی جےپی کے ایک ممبر اسمبلی نے ٹوئٹر پر جاری کرتے ہوئے لکھا’بلوائیوں کوریٹرن گفٹ‘۔ ویڈیو بناتے وقت پولیس کوعدالت اور قانون کی بھی پروا نہیں رہی، کیوں کہ حراست میں کسی کو اس طرح پیٹنا غیر قانونی ہے۔
پریاگ راج میں جو پتھراؤ ہوا اس کے لئے پولیس نے جاوید محمد نام کے ایک سوشل ورکر کو ماسٹر مائنڈ بتاتے ہوئے گرفتار کرلیا۔انہیں کس بنیاد پر ماسٹر مائنڈ بتایااس کی بیٹی بار بار یہ سوال کرتی رہی لیکن اسے جواب نہیںملا، جبکہ بیٹی نو اور دس جون کی درمیانی رات میں جاوید کی طرف سے فیس بک پر کی گئی وہ اپیل دکھاتی ہے جو جاوید نے نو اور دس جون کی دیر رات میں کی تھی۔ دس جون کی دیر شام پولیس نے جاوید کو اٹھایا، پھر رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے ان کی بیوی پروین فاطمہ اور انیس سال کی چھوٹی بیٹی سمیہ فاطمہ کوبھی اٹھا لیا۔ تینوں پولیس حراست میں تھے تبھی گیارہ جون کی شام کو نوٹس دیاگیا کہ اپنا مکان خالی کرو، وہ غیر قانونی تعمیرہے اسے توڑا جائے گا۔گھروالے تھے نہیں تو بارہ جون کی صبح نگر نگم اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے عملے نے ہی ان کے گھر کا سارا سامان باہر نکالا ، گیارہ بجے بلڈوزر نے مکان توڑنا شروع کیا جو تقریباً پانچ گھنٹے میں پوری طرح ملبے میں تبدیل کردیاگیا۔شام ہوتے ہوتے پولیس نے گھر کے ملبے سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد دکھا دیا۔ یہ مکان جاوید کا تھا بھی نہیں ان کی بیوی پروین فاطمہ کو اپنے والد سے ملا تھا۔
پروین فاطمہ کا مکان پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور پولیس نے مل کر اتاولے پن میں مسمارتو کر دیا لیکن اس کے بعد پوری ریاست میں جوہنگامہ مچا اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہےکہ پروین فاطمہ کا مکان توڑے جانے کے بعد پریاگ راج اور کانپور سمیت کئی شہروںمیں بلڈزور خاموش ہو گیا۔ایک خبر کے مطابق الہ آباد میں چالیس فیصد سے زیادہ مکانات کے نقشے پاس نہیں ہیں جن تقریباً آٹھ فیصد مکانوں کے نقشے پاس بھی ہیں ان میں بھی نقشہ کے مطابق تعمیر نہیں ہے۔ پریاگ راج سے پہلے کانپور میں افتخار نام کے ایک شخص کا نیا بنا چھوٹا سا تین منزلہ مکان بلڈوزر سے گرا دیاگیا۔ الزام ہےکہ افتخار کانپور کے بلوے میں ماسٹر مائنڈظفر حیات کا قریبی ہے۔افتخار نے ٹی و ی چینلوںاور یوٹیوب چینلوں کے نمائندوں کو بتایا کہ زندگی میں اس نےکبھی ظفر حیات کو نہیںدیکھا، ان سے ملا نہیں، فون کا ریکارڈ دیکھ کر بھی پتہ کیاجا سکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی، پھر ظفر حیات کا قریبی بتا کر ان جیسے غریب آدمی کا مکان توڑ دیاگیا۔اس سوال پر کہ اب آپ کیا کریں گے اس نے روتےہوئے کہاکہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ باپ کا راج ہےجو چاہے کر یں،مجھ جیسے غریبوں کی سنوائی کہاں ہے۔
مسلمانوں میں دہشت کی علامت بن چکے سرکاری بلڈوزر کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ پریاگ راج کے اٹالا ودیگر علاقوں کے بڑی تعداد میں مسلمان دکانداروںنے اپنی دکانیں یہ کہہ کر خالی کر دیں کہ پتہ نہیں کب انہیں غیر قانونی بتا کر توڑ دیا جائےکم سے کم سامان تو بچا لیں ۔جمعیۃ علماء ند سمیت کئی مسلم تنظیموں اور سوشل ایکٹوسٹ گروپوں نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے نام خط لکھ کراور جوابی اپیلیں کرکے کہا گیا ہےکہ یہ ساری زیادتیاں روکی جائیں۔ لکھنؤ سمیت ریاست کے تمام شہروں میںتوسیع ہوئی ان شہروں کے کنارے بسے گاؤں اور علاقوں میں لاکھوں ایسے مکانات اور دکانیں ہیں جن کے نقشےڈیولپمنٹ اتھارٹی سےپاس نہیں ہیں۔ایسے علاقوں کے کم سے کم مسلمان تو دہشت میں ہیںکہ نہ جانے کب ان کے مکانات پر بلڈوزر چل جائے۔