ہریانہ کے مانیسر میں مسلم تاجروں کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان، بجرنگ دل اور وی ایچ پی کا انتظامیہ کو الٹی میٹم، گجرات کے بناس کانٹھا میں بھی بائیکاٹ کا حکم نامہ وائرل۔
نئی دہلی: ہریانہ کے مانسیر میں اتوار کو مندر میں منعقدہ ایک پنچایت نے ہندو سماج کی نمائندگی کا دعوے کرتے ہوئے مسلم دکانداروں اور تاجروں کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ کو الٹی میٹم دیتے ہوئے پنچایت نے کہاکہ وہ اپنے اپنے گائوں میں مسلم تاجروں کے معاشی بائیکاٹ کو نافذ کرنے کےلیے علاقائی سطح پر کمیٹیاں بنائیں۔ پنچایت میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے اراکین سمیت ۲۰۰ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا، میٹنگ میں مانسیر، دھاہیڑا اور گروگرام کے قریب کے گائوں والوں نے شرکت کی تھی۔ پنچایت کے اراکین نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کو ایک میمورنڈم سونپا جس میں کہاگیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کیاجائے اس کی فوری تحقیقات ہونی چ اہئے اور غیر قانونی طور سے رہنے والوں کو بے دخل کیاجاناچاہئے، وہ لوگ تبدیلی مذہب کرانے میں شامل ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
دوسری جانب گجرات بناس کانٹھا کے ایک گائوں میں گرام پنچایت کا ایک لیٹر ہیڈ وائرل ہورہا ہے جس میں مسلم پھیری والوں سے سامان نہ خریدنے کی اپیل کی گئی ہے، اگر کوئی خردیتا ہے تو اس پر ۵۱۰۰ کا جرمانہ لگایاجائے گا، اس پر سرپنچ کے دستخط اور مہر بھی ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ نے اسے فرضی بتایا ہے۔ فری لانس صحافی اشرف حسین کے ٹوئٹ کے مطابق ’’معاملہ سامنے آنے کے بعد گرام پنچایت نے دوسرا لیٹر پیڈ جاری کرکے کہاکہ پہلے جو لیٹر پیڈ میں مسلم کمیونٹی کا نام تھا وہ غلطی سے لکھا گیا تھا‘‘۔ جبکہ لوک مت نے اپنے پورٹل پر لکھا ہے کہ پوسٹ کے وائرل ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ لیٹر پیڈ کے ذریعہ جو بھی حکم دیاگیا ہے وہ غیر سرکاری ہے اب ہم اس پر ایکشن بھی لے رہے ہیں۔ آج تک کی خبر کے مطابق یہ معاملہ بناس کانٹھا کا ہے جہا ںپر اس طریقے سے لیٹر پیڈ پر یہ حکم جاری کرکے مسلم پھیری والوں سے سامان نہ خریدنے کی بات کہی گئی ہے بتایاجارہا ہے کہ یہ حکم ادے پور میں ٹیلر کے قتل کے پیش نظر دیاجارہا ہے۔