لکھنؤ کے لولو مال میں نماز پڑھنے کو لیکر ہوئے تنازعہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج، انتظامیہ نے کہا، مال میں نماز ادا کرنے والے ہمارا اسٹاف نہیں ہے۔ 
لکھنؤ: لکھنؤ کے لولو مال میں نماز پڑھنے کو لے کر ہوا تنازعہ بڑھنے کے بعد سوشانت گالف سٹی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ لولو مال انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو شکایت دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نماز پڑھتے ہوئے وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ مال کا ملازم بھی نہیں ہے۔
کچھ دن پہلے لولو مال کا افتتاح سی ایم یوگی نے کیا تھا۔ اس دوران مال میں نماز ادا کرنے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں آدھا درجن لوگ مال کے اندر نماز پڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ نماز بقرعید کے دن پڑھی گئی تھی۔ اس دن مال میں چہل پہل کم رہنے کی بات بھی کہی گئ ہے۔
جب یہ ویڈیو وائرل ہوا تو سب سے پہلے ہندو مہاسبھا نے اس معاملے کو اٹھایا۔ مہاسبھا کے قومی ترجمان ششیر چترویدی نے کہا کہ عوامی مقامات پر نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مال میں صرف ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں۔ ششر چترویدی نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مال میں سندرکانڈ پاٹھ بھی کیا جائیگا۔ اس دوران سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تنازع شروع ہو گیا۔

سمیر چودھری۔