سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری شرمناک نشانہ: شکیل رشید ( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز) 
سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کو بی جے پی اور ہندوتوادیوں نے جس طرح سے ’نشانہ‘ بنارکھا ہے اسے ’ شرم ناک‘ کےعلاوہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ دو دنوں سے سابق نائب صدر کے خلاف جس بے ہودہ زبان کا استعمال کیا جارہا ہے اور جس طرح ان کی صاف شفاف ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، اس سے یہ حقیقت بالکل عیاں ہوکر سامنے آگئی ہے کہ اب مسلمانوں کی اُن بلند قامت شخصیات کو جو مسلمانوں کے لیے ہی نہیں اس ملک میں سب کے لیے قابلِ احترام ہیں ، جو اپنے آپ میں ایک ’تاریخ‘ ہیں یرقانی پروپگنڈے کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی تاریخی عمارتوں اور’ نشانیوں ‘کے بعد مسلمانوں کی قدآور شخصیات نشانے پر آگئی ہیں ۔ سارا ہنگامہ ایک ایسےپاکستانی صحافی کے ، نام نصرت مرزا کےاس بیان کے بعد شروع ہوا کہ جب حامد انصاری نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین تھے ، تب وہ ان کی دعوت پر کئی بار ہندوستان آئے تھے اور ان دوروں کے دوران انہیں کئی طرح کی حساس اور خفیہ اطلاعات حاصل ہوئی تھیں ،جنہیں انہوں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے شیر کیا ۔ نصرت مرزا کا نام پہلی بار سنا گیا ہے ، حتیٰ کہ خود پاکستان کے صحافتی حلقے دم بخود ہیں کہ یہ نصرت مرزا نام کا صحافی کب اور کہاں سے پیدا ہوگیا ، وہاں اس کے بیان پر کوئی یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن یہاں اس کے بیان کو آسمان سے اترا ہوا صحیفہ مان لیا گیا ہے۔اس کے بیان پر اوّل تو کسی کو کان ہی نہیں دھرنا چاہیئے تھا ، حکومت کو خود یہ کہہ دینا چاہیئے تھا کہ نصرت مرزا کا دعویٰ بے بنیاد بھی ہے اور بے تکا بھی ،اسے قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن بجائے اس کے وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی پارٹی بی جے پی اور بھگوا بریگیڈ نے سابق نائب صدر اور کانگریس پر تنقید شروع کردی ۔ بی جے پی نے وضاحت طلب کرلی۔ تاثر یہ دیا گیا جیسے کہ حامد انصاری نے آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کی ہو ۔ یہ کس قدر شرم کی بات تھی۔ مودی سرکار جب سے آئی ہے مسلمانوں کی تہذیب اور آثار نشانے پر ہیں ، الہ آباد کو پریاگ راج کہا گیا اور مغل سرائے کو دین دیال اپادھیائےجنکشن،یہ تو ماضی کے آثار ہیں ،لیکن حامد انصاری پر انگلی اٹھا کر ، اب مسلمانوں کی ’زندہ نشانیوں‘ کو زد پر لے لیا گیا ہے ۔حامد انصاری کا نام اور ان کا کام ہمیشہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اور نوکر شاہوں کے حلقے میں بھی احترام سے لیا جاتا رہا ہے ۔ مودی اور امیت شاہ کے ’گرو‘ اٹل بہاری واجپئی بذات خود حامد انصاری کا بے حد ادب اور احترام کرتے تھے ، صرف اس لیے نہیں کہ وہ دو بار نائب صدر بنے ، بلکہ اس لیے کہ وہ ہیں ہی قابلِ احترام۔ حامد انصاری کا خاندان غازی پور سے تعلق رکھتا ہے ، اس خاندان نے ملک کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ، مجاہدِ آزادی ڈاکٹر مختار احمد انصاری اسی خاندان کے تھے ۔ حامد انصاری نے ایک سفارت کار کے طور پر ملک کے لیے عظیم خدمات انجام دی ہیں ۔ عراق ، مراکش، بیلجیم اور سعودی عرب کے علاوہ ایران میں بھی آپ نے سفارت کاری کی اور اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے بھی رہے ۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ جموں وکشمیر میں ہندوستان انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے ۔ حامد انصاری نے پاکستان کے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی ۔اور آج ان پر ایک مشکوک قسم کے پاکستانی صحافی کے بے تکے دعوے کے بعد پاکستان ہی سے سانٹھ گانٹھ کا الزام  لگادیا گیا ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ نائب صدر کسی غیر ملکی مہمان کو صرف حکومت کے ’ مشورہ‘ پر ہی بلاسکتا ہے ، اور وہ بھی وزارت خارجہ   کے توسط سے ۔مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ سنگھیوں کو قابو میں رکھے ، بی جے پی کو بے تکے بیانات سے روکے ،اور جو بھی اس سازش کے پیچھے ہو اس کی گرفت کرے ۔ یہ ایک سازش ہی ہے ،اس کے تار کہاں یقیناً ان عناصر سے جُڑے ہیں جو اس ملک کے تمام مسلمانوں کی خدمات پر پانی پھیرنے کا گھناؤنا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اگر اس کی سرکوبی نہ کی گئی تو کل کو کوئی مرحوم  صدر اور بابائے میزائیل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے رشتے بھی غیر ملکی جاسوسوں سے جوڑتا نظر آ سکتا ہے۔