سپریم کورٹ کی حق بیانی بھگوا دھاریوں کو ہضم نہیں ہو پا رہی ہے۔ شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
 سپریم کورٹ کی لتاڑ یرقانیوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اتنا ہی تو کہا ہے ، کہ راجستھان میں جو کچھ ہوا اس کی ذمےدار نوپور شرما ہے ۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس تبصرے نے سنگھیوں ، بھاجپائیوں اور بھگوائیوں کے پیٹ میں ایسی مروڑ پیدا کر دی ہے کہ عدالتی تبصرے کے خلاف سارا ’ میڈیا سیل ‘ متحرک ہو گیاہے ، سوشل میڈیا کے سارے بھکت سرگرم ہو گیےہیں ، اور ایک صاحب نے تو ، سپریم کورٹ سے بذریعہ خط یہ فریاد کر دی ہے کہ نوپور شرما کے بارے میں جو ریمارکس اور تبصرے کیے گیے ہیں انہیں واپس لے لیا جائے ۔ بات جمعہ یکم جولائی کی ہے ۔ نوپور شرما نے عدالت میں ایک عرضی داخل کی تھی کہ ملک بھر میں الگ الگ جگہوں پر ، اس کے خلاف جو ایف آئی آر دائر کی گئی ہیں ان سب کو ایک جگہ جمع کردیا جائے ۔مقصد یہ تھا کہ تمام ایف آئی آر ایک دوسرے میں ضم کر دی جائیں تاکہ معاملہ کی شنوائی صرف دہلی میں ہو سکے اور اسے دہلی سے باہر نہ جانا پڑے۔ معاملہ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس پاردی والا کی بنچ کے سامنے تھا ، جس نے شرما کے وکیل منندر سنگھ کو ، دہلی ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے پٹیشن کو قبول نہیں کیا ۔ بات صرف دہلی ہائی کورٹ جانے کے مشورے تک ہی رہتی تو شاید یرقانیوں کے پیٹ میں مروڑ نہ اٹھتی ، لیکن بنچ نے مشورہ کے ساتھ نوپور شرما کے لتّے بھی لے لیے ۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا ،’’ آج ملک میں جو بھی ہو رہا اس کی واحد ذمےدار یہ خاتون ہے ، اس نے جو بیان دیا تھا اسی کے سبب ادئے پور میں قتل کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ، اس کے بیان نے لوگوں کو مشتعل کیا ، لوگوں کے جذبات بھڑکا دیے ، اس خاتون نے پورے ملک میں آگ لگا دی ، اس کے بیان نے ملک بھر میں ایسی سماجی تفریق پیدا کر دی کہ جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں ، اس نے اپنا بیان کافی تاخیر سے ، جب تک کہ نقصان ہو چکا تھا ، واپس لیا ، اور وہ بھی مشروط ، یہ کہتے ہوئے کہ اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس لگی ہو ، یہ معافی نہیں ہے ، یہ تو کسی کی ہتک کرکے اسے مزید مشتعل کرنے کی کوشش جیسا ہے ، ایسی معافی کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے ، اسے تو فوراً ٹی وی پر جا کر معافی مانگ لینی چاہیے تھی ۔‘‘ بنچ نے اپنے تبصرے میں مزید کچھ باتیں کہیں جو نوپور شرما ہی کو نہیں مرکزی سرکار ، پولیس اور میڈیا کے منھ پر بھی ایک زنّاٹے دات تھپڑ ہے ۔ عدالت نے کہا ، ’’ہم نے ٹی وی پر ہونے والا ان کا مباحثہ دیکھا ہے ، یہ کہنا درست نہیں ہے کہ نوپور شرما کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی تھی ، جو کچھ مباحثہ میں ہوا وہ بہت شرمناک اور انتہائی قابلِ اعتراض ہے ، نوپور شرما خود ایک وکیل ہیں انہیں پتہ ہے کہ اشتعال میں آکر بیان دینے سے کیا ہو سکتا ہے ، اقتدار کا نشہ اس قدر سر نہیں چڑھنا چاہیے کہ یہ لگنے لگے کہ چاہےجو بھی کہہ دیا جائے برسرِ اقتدار پارٹی بچا لے گی ۔‘‘ ٹائمزناؤ اور اس کی اینکر نویکا کمار کا نام لیے بغیر بنچ نے کہا ، ’’ ٹی وی چینلوں کو یہ نہیں کرنا چاہیے ، جو معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اس پر بحث کروانے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے ، یہی نہ کہ جو ایجنڈا ہے اس کو آگے بڑھایا جائے ؟‘‘ پولیس کی حرکتوں پر عدالت کا ریمارک بہت سخت تھا ، ’’ جن کے خلاف نوپور شرما نے شکایت درج کرائی انہیں گرفتار کر لیا گیا لیکن نوپورر شرما کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔‘‘ ایک اور بات جو یرقانیوں کو قبول نہیں ہو رہی ہے وہ ہے عدالت کا نوپور شرما کو یہ ہدایت دینا کہ وہ ٹی وی پر آ کر پورے ملک سے معافی مانگے ۔  
عدالتِ عظمیٰ کے مذکورہ تبصرےپر’ کھسیانی بلیّ کھمبا نوچے ‘ کے مصداق ، بھگوا خیمہ کی طرف سے ایک تبصرہ آیا ہے ، ’’ سپریم کورٹ تو مسلمانوں کی طرح بول رہا ہے ۔‘‘ تبصرہ صرف ایک ہی نہیں ہے ، پورا سوشل میڈیا ایسے تبصروں سے اِٹا پڑا ہے ۔ ایک سنگھی پورٹل ’’ اوپ انڈیا ‘‘ پراس کی ایڈیٹر ( اتفاق سے اس کا نام بھی نوپور شرما ہی ہے ، بس نوپور اور شرما کے درمیان ایک جے کا اضافہ ہے) کا ایک پورا ادارتی مضمون شائع ہوا ہے ، مضمون کا عنوان ہے ’’ ڈیئرمی لارڈز ، کیا آپ نے بھی اپنی ’ پھسلتی زبانوں ‘ سے اسلام پسندوں کو اکسایاہے ؟‘‘ اس مضمون میں عدالت کو نشانے پر رکھا گیا ہے ، اس کے تبصروں پر تیکھے تبصرے کیے گیے ہیں اور پڑھنے والوں کے ذہنوں میں یہ بات ٹھونسنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ اسلام پسندوں کے عین مطابق ہے ، بالفاظ دیگر یہ کہ عدالت ’ مسلمان ‘ ہو گئی ہے ۔ مضمون کی آخری سطریں ملاحظہ فرمائیں ، ’’ عدلیہ کو اپنے وسیع علم سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اسلامی مولوی بننا چاہتی ہے یا فطری طور پر انصاف کرنا چاہتی ہے ۔ عدالت نے آج نوپور شرما کی درخواست پر سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے ہیں ، احترام کے ساتھ ، اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں کہ اسلامی بھیڑیوں کے سامنے ، نوپور شرما پر سخت تبصرے کرنا ، عدالت کے وقار کے منافی تھا ۔‘‘ سوشل میڈیا کے مزید چند تبصرے ملاحظہ کریں ؛ ’’ بلیک ڈے فور انڈین جوڈیسری ‘‘( ہندوستانی عدلیہ کے لیے یوم ِ سیاہ)، ’’ سپریم کورٹ بِک گیا ہے ‘‘ وغیرہ ۔ کیا یہ عدالت کی ، وہ بھی عدالتِ عظمیٰ کی توہین نہیں ہے ؟ جی۱ یہ توہین عدالت ہی ہے ، لیکن شاید ہی ان کی پکڑ ہو ۔ اور پھر اس طرح کی باتیں کوئی پہلی بار تو ہو نہیں رہی ہیں ،بھگوائی تو ایک عرصے سے توہینِ عدالت کا جرم کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ لوگوں کو خوب یاد ہو گا کہ جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تحریک اپنے شباب پر تھی تو وشوا ہندو پریشد سے لے کر بجرنگ دل تک ، تقریباً ہر سنگھی تنظیم یہ کہتی نظر آ رہی تھی کہ اسے عدالت کا کوئی ایسا فیصلہ قبول نہیں ہوگا جو ان کے آستھا کے خلاف ہوگا ۔ آستھا کا مطلب عقیدہ ہے ، اور ایودھیا تحریک میں اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بابری مسجد کی جگہ بس رام مندر چاہتے ہیں ، اور عدالت اس آستھا کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی ۔ اب متھرا اور کانشی کی مساجد کے معاملات میں بھی آستھا ہی کی بات کی جا رہی ہے ، یعنی ان معاملات میں اگر عدالت مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو وہ قبول نہیں ہوں گے ۔ لوگوں کو یہ بھی خوب یاد ہوگا کہ ’ ہندو راشٹر ‘بنانے کے لیے یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ حکومت کسی کی پرواہ کیے بغیر ، عدالت کی بھی ، ملک کو ’ ہندو راشٹر ‘ قرار دے دے ۔ 
ایک جمہوری ملک میں عدلیہ اور جج صاحبان پر تیکھے تبصرے اور حملے کیے تو جا سکتے ہیں ، لیکن عدلیہ یا جج صاحبان کی توہین نہیں کی جا سکتی ۔ یہاں تو سپریم کورٹ کو ہی ’ مسلمان ‘ قرار دے دیا گیا ہے ! اس طرح عدلیہ کے غیر جانبدارانہ کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا ہے ۔ یہ ایک خطرناک پہلو ہے ، اس کا سیدھا مطلب عام لوگوں کو عدالت کے خلاف اکسانا ہے ، ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانی ہے کہ اب عدلیہ ایک مخصوص فرقے - مسلمانوں - کی بات سنتی ہے تمہاری نہیں ۔ یہ ایک انارکی پھیلانے والا عمل ہے ، اس پر روک لگنی چاہیے اور جو لوگ توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ان کی گرفت کی جانی چاہیے۔ یہاں میں یہ واضح کرتا چلوں کہ عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف اور عدلیہ کی توہین میں فرق ہے ۔ توہین اس وقت ہوتی ہے جب کوئی عدلیہ کو کھلے عام جانبدار قرار دیتا ہے ، جبکہ اختلاف اسے کہتے ہیں جو آئین کے دائرے میں رہ کر کیا جائے ۔ ایسی باتوں سے عدلیہ پر شدید دباؤ آجاتا ہے ، جج صاحبان خود کو نشانے پر محسوس کرتے ہیں ، اور عدالتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ ایک جمہوری ملک میں ، عدلیہ جمہوریت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے ، اگر اس میں لچک آ گئی تو جمہوری قدریں متاثر ہو سکتی ہیں ، فیصلے دباؤ میں دیے جا سکتے ہیں ۔ نوپور شرما معاملہ میں سپریم کورٹ کے دونوں جج صٓحبان کی باتیں ان کے ضمیر کی آواز ہے ، انہوں نے یقیناً ملک بھر میں فرقہ پرستی اور قتل و غارتگری پر بے چینی محسوس کی ہوگی ۔ ساری دنیا میں بھارت کی بےعزتی پر شرمندگی محسوس کی ہوگی ۔ ملک کے حالات پر کڑھے ہوں گے ۔ ان کی زبانوں سے اس قدر سخت تبصرے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک سے محبت ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں امن و چین رہے اس لیے ان کے یہ تبصرے سر آنکھوں پر لیے جانے تھے ، لیکن بھگوا دھاری اس کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ نوپور شرما کے خلاف کارروائی صرف ایک طرح کا دکھاوا تھی ، ورنہ بھگوائیوں کے آقاوؤں نے انہیں اشتعال انگیزی اور ہر طرح سے نفرت پھیلانے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔ اسی لیے یہ عناصر نوپور شرما کے خلاف کوئی تبصرہ سننے کو راضی نہیں ہیں ۔ 
بات راجستھان سے شروع ہوئی تھی جہاں کنہیا لال نامی ایک درزی کا، دو مسلم نوجوانوں نے ، یہ دعویٰ کرتے ہوئے ،کہ یہ نوپور شرما کا حمایتی ہے ،گلا ریت ڈالا تھا ۔ یہ افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعہ تھا ۔ اس واقعہ کے بعد میرے سامنے یہ سوال تھا ، یہ کون لوگ ہیں ، کہاں سے آتے ہیں اور کیسے کسی کی جان لے لیتے ہیں؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں ، یہ جذباتی انسان ہو سکتے ہیں اور آگے پیچھے کی سوچے بنا کچھ بھی کر دیتے ہیں ، یا یہ کسی کے بہکاوئے میں آئے ہوئے لوگ ہو سکتے ہیں ، اور بہکانے والے کوئی بھی ہو سکتا ہے ، دوست بھی اور دشمن بھی ۔ قتل کرنے والے دونوں نوجوانوں ، محمد ریاض اور غوث محمد کے بارے میں اب تک جو بھی باتیں سامنے آئی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا انہیں کسی نے بہکایا تھا یا یہ جؓذباتی نوجوان پیں ، لیکن این آئی اے نے جو تفتیش شروع کی ہے اس میں پاکستان کا نام آ رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امراوتی میں ۲۲ ، جون کو ایک کیمسٹ امیش پرہلاد راؤ کولہے کا جو قتل ہوا ، اسے بھی اب راجستھان کے کیس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔ اس معاملے کی تفتیش بھی اب این آئی اے نے شروع کر دی ہے اور اس میں بھی دہشت گردی اور عالمی ہاتھ کی تلاش کی چھان بین ہوگی ، اور بہت سے لوگ نشانے پر آئیں گے ۔ لیکن ایک دلچسپ بات مزید سامنے آئی ہے ، ادئے پور کے جو قصوروار ہیں ان میں سے ایک محمد ریاض کے ، بی جے پی سے رشتے سامنے آئے ہیں ۔ محمد ریاض کی تصاویر بی جے پی کے قائدین کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ وہ بی جے پی کے اقلیتی مورچہ کا رکن تھا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا این آئی اے محمد ریاض اور بی جے پی کے رشتے کی تفتیش کرے گی ؟