دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر پر وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی کو بڑا دھچکا، سپریم کورٹ کا ضمانت میں توسیع سے انکار، 2 ستمبر تک سرینڈر کرنے کا حکم۔
نئی دہلی: نفرت انگیز تقریر کیس میں سپریم کورٹ نے بڑا جھٹکا دیتے ہوئے وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی کی ضمانت میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے  2 ستمبر تک خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔
جتیندر نارائن تیاگی پر ہریدوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف قابل اعتراض تقریر کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں جتیندر نارائن تیاگی کو 13 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کے ملزم جتیندر نارائن تیاگی نے ضمانت کے لیے اتراکھنڈ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے جتیندر نارائن تیاگی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ جس کے بعد انہیں سپریم کورٹ راحت ملی تھی اور
سپریم کورٹ نے تین ماہ کے لیے عبوری طبی ضمانت دی تھی، لیکن اب سپریم کورٹ نے جتیندر تیاگی کو خودسپردگی کا حکم دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہریدوار کے مشہور وکیل سجاد حسین ایڈووکیٹ اور سہارنپور کے وکیل منظر حسین کاظمی ایڈوکیٹ اور شاداب عابدی اور طالب زیدی کی محنت سے وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن سنگھ تیاگی کی ڈسٹرکٹ کورٹ ہریدوار سے ضمانت کو مسترد کر دیا گیا تھا۔