سپریم کورٹ کا بابری مسجد اور گجرات 2002 کے فسادات سے متعلق تمام کیسوں کو بند کرنے کا فیصلہ۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو بابری مسجد اور 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق زیادہ تر مقدمات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ گجرات فسادات سے متعلق دائر کئی عرضیوں کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس لیے ان کے خلاف کارروائی بند کی جا رہی ہے۔
عدالت نے کہا کہ گجرات فسادات کے 9 میں سے 8 مقدمات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے بابری مسجد کے انہدام سے متعلق توہین عدالت کیس کو بھی بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایودھیا پر 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر توہین کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست پہلے درج کی جانی چاہئے تھی لیکن ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایودھیا اراضی تنازعہ کے فیصلے (9 نومبر 2019) کے بعد اب یہ مسئلہ جائز نہیں رہا۔

درخواست گزاروں میں سے ایک محمد اسلم بھورے نے 1991 میں درخواست دائر کی تھی جب کہ انہوں نے 1992 میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی حالانکہ وہ 2010 میں انتقال کر گئے تھے۔
اس کے ساتھ ہی درخواست گزار کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کیس میں یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے خلاف توہین عدالت سے متعلق کیس کو بھی بند کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ بہت وقت گزر گیا، ایودھیا کا فیصلہ سال 2019 میں آیا۔ اس کے پیش نظر اب یہ کیس جائز نہیں ہے۔
ایک اور فیصلے میں سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق کئی مقدمات کو بھی بند کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں عرضیوں کی ایک طویل فہرست زیر التوا تھی۔ عدالت نے کہا کہ ان مقدمات میں کافی وقت گزر چکا ہے اور اب یہ بے کار ہو چکے ہیں۔ اس لیے 9 میں سے 8 مقدمات میں ٹرائل ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس وقت گجرات کے نرودا گاؤں کی ٹرائل کورٹ میں ایک مقدمے کی حتمی بحث جاری ہے۔