مراد آباد:  گھر میں نماز باجماعت ادا کرنے والوں کے خلاف درج مقدمہ تفتیش کے بعد کیا گیا ختم۔
مراد آباد: یو پی کے مراد آباد کے ایک موضع میں جن افراد کے خلاف با جماعت نماز ادا کرنے پرمقدمہ درج کیا گیا تھا وہ واپس لے لیا گیا ہے۔ گاؤں دلہے پور میں مدعی چندرپال وغیرہ نے چھجلیت پولیس اسٹیشن میں با جماعت نماز کرنے پرمقدمہ درج کروایا تھا۔ تحقیقات کے بعد الزامات ثابت نہیں ہوئے اوراس سلسلہ میں درج مقدمہ خارج کردیا گیا ہے۔
بیرسٹراسد الدین اویسی صدرمجلس نے ٹویٹ کرتے ہوئے امید ہے کہ اتر پردیش پولیس ہجوم کے دباؤ میں غیر قانونی ایف آئی آر درج کرنا بند کردے گی۔ امید ہے کہ لوگ اب اپنے گھروں میں بغیر کسی پریشانی کے نماز پڑھ سکیں گے۔ پولیس کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ گائوں دلہے پور میں مدعی چندرپال وغیرہ نے باجماعت نماز پڑھنے پرمقدمہ درج کیا تھا،غور و خوض کے بعد واقعہ ثابت نہیں ہوا لہٰذا تفتیش مکمل کر کے جرم کی رپورٹ کو خارج کر دیا گیا، باقی قانونی کارروائی اسی کے مطابق مکمل کی جائے گی۔
واضح رہے کہ نماز ادا کرنے والوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس پربیرسٹراویسی نے شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے کسی بھی مقام پرنماز ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اردولیکس۔