جموں وکشمیر میں سابق وزراسمیت 50 سے زائد لیڈروں کا کانگریس سے استعفیٰ۔
جموں:  جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی کو منگل کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ ایک طرف پارٹی غلام نبی آزاد کے جانے کے بعد ڈیمیج کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف پارٹی سے رہنماؤں کے استعفوں کا سلسلہ جاری ہے۔منگل کو سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند، سابق وزیر عبدالمجید وانی سمیت 50 سے زیادہ لیڈروں نے کانگریس چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند، سابق وزیر عبدالمجید وانی، سابق ایم ایل اے بلوان سنگھ، سابق وزیر ڈاکٹر منوہر لال شرما، ریاستی کانگریس جنرل سکریٹری ونود مشرا، ونود شرما، نریندر شرما سمیت 50 سے زیادہ لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی کے ان تمام رہنماؤں نے جموں میں ایک پریس کانفرنس کے بعد کانگریس چھوڑ کر غلام نبی آزاد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف منگل کو کانگریس جموں میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اے آئی سی سی کی جموں و کشمیر اور لداخ امور کی انچارج رجنی پاٹل کے ساتھ نئے مقرر کردہ ریاستی صدر وقار رسول منگل کو جموں پہنچ رہے ہیں۔ جموں ہوائی اڈے سے پارٹی ہیڈکوارٹر تک ریلی کی شکل میں دونوں لیڈروں کا استقبال کرکے پارٹی کو ڈیمیج کنٹرول کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز، سابق ڈپٹی اسپیکر غلام حیدر ملک سمیت تین اور کانگریس لیڈروں نے پیر کو تجربہ کار سیاست دان غلام نبی آزاد کی حمایت میں پارٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔کٹھوعہ کے بنی اسمبلی حلقہ سے سابق ایم ایل اے حیدر ملک، کٹھوعہ کے سابق ایم ایل سی سبھاش گپتا اور ڈوڈہ کے سابق ایم ایل سی شیام لال بھگت نے پارٹی ہائی کمان کو اپنے استعفے بھیجے ہیں۔ آزاد کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر جی ایم سروڑی نے پیر کو کہا کہ انہیں ملک، گپتا اور بھگت کی حمایت کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔