مدارس کے سلسلہ آسام کے وزیرِ اعلیٰ کا انتہائی متنازعہ بیان۔ بولے مدارس میں دی جا رہی ہے دہشت گردی کی تربیت۔
گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے مدارس کے حوالے سے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ سرما کا اِلزام ہے کہ مدارس کو دہشت گردوں کے تربیتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ان مدارس میں تربیت کے بجائے دہشت گردی کی تربیت دی جارہی ہے۔ آسام میں اب تک ایسے دو مدارس کو منہدم کیا جا چکا ہے۔
حال ہی میں آسام کے بارپیٹا ضلع میں ایک مدرسہ کو منہدم کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مدرسہ سرکاری زمین پر بنایا گیا تھا اور یہاں دہشت گردوں کو تربیت دی جا رہی تھی۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ سی ایم سرما نے کہا، 'تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مدرسے میں القاعدہ کا تربیتی کیمپ چل رہا تھا۔ یہاں تعلیم نہیں دی جا رہی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کیس میں گرفتار افراد القاعدہ کے بارپیٹا ماڈیول کے اہم عناصر تھے۔ یہ لوگ بنگلہ دیشی دہشت گردوں کو ٹرانسپورٹ اور دیگر سامان فراہم کرتے تھے۔ پولیس نے ایک کار بھی قبضے میں لی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ مسمار کیا گیا مدرسہ بنگلہ دیشی محمد سومن کے زیر استعمال بھی تھا جسے حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ دراصل القاعدہ کے سلیپر سیلز کا ماسٹر مائنڈ اور بنگلہ دیش میں کالعدم انصار اللہ بنگلہ ٹیم کا رکن تھا۔ پولیس کے مطابق سومن اس پرائیویٹ مدرسہ میں بطور استاد آیا کرتا تھا۔
اس سے قبل 23 مئی کو دہلی میں ایک پروگرام میں ہیمنت بسوا شرما نے کہا تھا کہ جب تک ملک میں مدارس ہیں، بچے انجینئر اور ڈاکٹر بننے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ سرما نے اس دوران کہا تھا کہ اگر آپ بچوں کو مذہب سے متعلق تعلیم دینا چاہتے ہیں تو گھر پر دیں، اس کے لیے مدرسہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ کو بتا دیں کہ آسام حکومت نے 2020 میں مدارس کو گرانٹ دینا بند کر دیا تھا۔ ہیمنت بسوا اس وقت ریاست کے وزیر تعلیم تھے۔ اس فیصلے کے بعد ریاست میں تقریباً 800 مدارس بند کر دیے گئے۔