’گنیش اتسو‘  کے لئے ہبلی کے عیدگاہ میدان کو گئو موتر سے کیا گیا شدھ، سپریم کورٹ کی روک کے با وجود عیدگاہ میں ’گنیش اتسو‘ شروع۔
ہُبلی: کرناٹک ہائی کورٹ سے منظوری حاصل ہونے کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے درمیان بدھ کے روز ہبلی شہر کے عیدگاہ میدان میں گنیش چترتھی کا اتسو (جشن) شروع ہوا۔ 
رپورٹ کے مطابق ہندو کارکنوں نے اتسو کے آغاز سے قبل عیدگاہ میدان کی زمین کو گائے کے پیشاب (گئو موتر) سے شدھ (پوتر) کیا۔ وہیں، میدان میں گنیش دیوتا کا مجسمہ نصب کرنے سے قبل بم ناکارہ بنانے والے دستہ نے معائنہ کیا۔ حفاظت کے لئے میدان کی ڈرون کے ذریعے بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ادھر، ہبلی کے عیدگاہ میدان میں گنیش اتسو منانے کی اجازت دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر وقف بورڈ نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ ہندو کارکنوں کو خدشہ تھا کہ وقف بورڈ اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع کر کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔
مرکزی کوئلہ کانکنی اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے متنازعہ مقام کو چنما گراؤنڈ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین بلدیہ ادارہ کی ہے اور کسی بھی تنظیم یا مذہب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
جوشی نے عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کیا اور لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عیدگاہ میدان میں سال میں دو مرتبہ نماز ادا کرنے اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا ’’مسلمانوں کے نماز ادا کرنے پر کسی نے اعتراض ظاہر نہیں کیا، لہذا سہ روزہ گنیش اتسو منانے کی بھی مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔‘‘

غور طلب ہے کہ عیدگاہ میدان میں گنیشواتسو کو لے کر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ دراصل، منگل کو سپریم کورٹ نے بنگلورو کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیش پوجا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وقت، کرناٹک ہائی کورٹ نے اسی دن دیر گئے ہبلی کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیش پوجا کی اجازت دے دی ہے۔ دونوں عدالتوں میں عیدگاہ گراؤنڈ سے متعلق سماعت ہوئی۔ لیکن جگہ الگ تھی۔ دونوں عدالتوں کا فیصلہ زیر بحث ہے کیونکہ دونوں کی سماعت میں ‘عیدگاہ میدان’ مشترک ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کی رات دیر گئے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ہبلی کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیشواتسو کو اجازت دیتے ہوئے ہبلی دھاڈواد میونسپل کارپوریشن کی طرف سے عیدگاہ گراؤنڈ میں گوری گنیش کی تین روزہ پوجا کے لیے دی گئی منظوری کو برقرار رکھا۔ دراصل اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہبلی کی انجمن اسلام نے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
جہاں دیر رات جسٹس اشوک ایس کناگی کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی اور دلائل سننے کے بعد گنیش اتسو کی اجازت دے دی۔
قبل ازیں، سپریم کورٹ نے منگل کو بنگلورو کے عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیش چترتی کی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت سے انکار کر دیا اور دونوں فریقوں کو کو اسٹیٹس برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ گزشتہ 200 سالوں میں عیدگاہ گراؤنڈ میں گنیش چترتھی کی اس طرح کی کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ انہوں نے معاملے میں فریقین سے کہا کہ وہ تنازعہ کے ازالے کے لیے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔