آسام میں مدرسوں کے خلاف بلڈوزر کاروائی جاری، ایک اور مدرسے کو بلڈوزر سے کیا گیا منہدم، مولانا بدرالدین اجمل جائیں گے سپریم کورٹ۔
بونگائی گاؤں: (ایجنسی )بدھ 31 اگست کو آسام میں ایک اور مدرسہ کو منہدم کر دیا گیا۔ یہ تیسرا مدرسہ تھا جس پر آسام کی بی جے پی حکومت نے بلڈوزر چلا دیا۔ اب تک تین مدارس کو منہدم کیا گیا ہے، آسام کے سی ایم ہمانتا بسوا سرما نے خود وقتاً فوقتاً بیانات دے کر کہا ہے کہ ان مدارس کا تعلق دہشت گرد گروپ سے تھا۔ لیکن جب انتظامیہ مدرسہ کو گرانے پہنچتی ہے تو میڈیا کو بتاتی ہے کہ مدرسہ قواعد کے خلاف بنایا گیا تھا، حکومتی قواعد پر عمل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اسے گرایا گیا۔

ستیہ ڈاٹ کام کے مطابق آسام کے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے صدر بدرالدین اجمل نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس کو گرانے سے باز نہیں آتی ہے تو ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آسام حکومت مدارس کو منہدم کرنے کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔آسام میں مدارس کے حوالے سے آسام حکومت کی پالیسی پوری طرح بدل گئی ہے۔ اس نے سرکاری مدارس کو بند کر دیا اور ان میں سرکاری سکول کھولے۔ ریاست آسام میں اب ایک بھی سرکاری مدرسہ نہیں ہے۔ اب جو مدارس ہیں وہ پرائیویٹ ہیں اور انہیں حکومت سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ آسام حکومت کی نظریں ان مدارس پر لگی ہوئی ہیںایس پی ڈیکا نے ایک طرف مدرسے کا تعلق دہشت گرد گروپوں سے بتایا لیکن بدھ کو میڈیا کو دیے گئے بائٹ میں یہ بھی کہا -"مدرسہ نجی اراضی پر بنایا گیا تھا، لیکن اسے ضروری شرائط اور اجازت ناموں پر عمل کیے بغیر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس لیے اسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی دفعات کے تحت منہدم کر دیا گیا۔”